سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم کی جانب سے لگژری گاڑیوں کے استعمال کی منظوری کا ریکارڈ طلب کر لیا

جمعہ جون 21:04

سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم کی جانب سے لگژری گاڑیوں کے استعمال کی منظوری ..
لاہور۔یکم جون(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 جون2018ء) سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم کی جانب سے لگژری گاڑیوں کے استعمال کی منظوری کا ریکارڈ طلب کر لیا ہے ۔ چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میںدورکنی بنچ نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں لگژری گاڑیوں کے استعمال کے بارے میں ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی ۔ دوران سماعت عدالتی حکم پر سابق وزیر قانون زاہد حامد پیش ہوئے ،،چیف جسٹس نے سابق وفاقی وزیر سے استفسار کیا کہ آپ کس حیثیت میں تین لگژری گاڑیاں استعمال کر رہے تھے جس پر زاہد حامد نے وضاحت کی کہ ان کے زیر استعمال ایک ہی گاڑی تھی جو کابینہ ڈویژن کی منظور ی سے استعمال کر رہا تھا عدالتی استفسار پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ وزراء 1800 سی سی گاڑی استعمال کرنے کا استحقاق رکھتے ہیں ۔

(جاری ہے)

عدالتی استفسار پر سابق وزیر قانون زاہد حامد نے گاڑیوں کے استعمال کے استحقاق کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا جس پر چیف جسٹس نے ان کو باور کروایا کہ آپ نے قوانین دیکھے بغیر گاڑی کا استعمال کیسے شروع کر دیا اس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ وزیراعظم نے سیکورٹی خدشات کے پیش نظر بڑی گاڑیوں کی منظوری دی تھی۔ چیف جسٹس نے حیرت کا اظہار کیا کہ وزرا ء کھاتے پیتے لوگ ہیں اپنے پاس سے گاڑیاں کیو ںنہیں رکھتے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ استحقاق کے بغیر دی گئی 30 گاڑیاں واپس لے لی گئی ہے لگژری گاڑیوں کے استعمال پر مزید کارروائی آج ہفتہ تک ملتوی