مسلم لیگ (ن) کے ناراض سینئر رہنما سردار ذوالفقار کھوسہ تحریک انصاف میں شامل

عمران خان نے شاہ محمود قریشی ، جہانگیر خان ترین، عبد العلیم خان اور دیگر کے ہمراہ لاہور میں ذوالفقا کھوسہ کی رہائشگاہ پر ملاقات کی عمران خان نے پارٹی پرچم والا مفلر پہناکر خیر مقدم کیا ،موجودہ سیاسی صورتحال ،جنوبی پنجاب کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا تحریک انصاف وقت پر انتخابات چاہتی ہے ،ہم نگران وزیر اعلیٰ کے نام کو اناکا مسئلہ بنانیکی بجائے صاف اور شفاف انتخابات چایتے ہیں پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین الیکشن ہے جس سے ملک کی تقدیدبدلے گی ،2013ء میں نگران حکومتیں ناکام ہو گئیں ‘ پی ٹی آئی چیئرمین کی میڈیا سے گفتگو سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر تنویر اسلام ، سابق رکن اسمبلی علی اصغر منڈا ،سابق ضلع ناظم حاجی مقصود صابر انصاری کا بھی تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان عمران خان سے مخدوم خسرو بختیار سمیت دیگر رہنمائوں کی بھی ملاقات ،سیاسی صورتحال ،جنوبی پنجاب کے حوالے سے تبادلہ خیال

جمعہ جون 21:19

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 جون2018ء) مسلم لیگ (ن) کے ناراض سینئر رہنما سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ نے اپنے پوتے کے ہمراہ تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کر دیا ۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی ، جہانگیر خان ترین،، عبد العلیم خان اور دیگر کے ہمراہ لاہور میں واقع سردار ذوالفقا ر علی خان کھوسہ کی رہائشگاہ پر ان سے ملاقات کی اور انہیں ان کے پوتے کو تحریک انصاف کے پارٹی پرچم والا مفلر پہناکر ان کا خیر مقدم کیا ۔

اس موقع پر سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ کے صاحبزادے سیف الدین کھوسہ جو پہلے ہی پی ٹی آئی میں ہیں وہ بھی موجود تھے۔ اس موقع پر ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال اور خصوصاً جنوبی پنجاب کے حوالے سے تبادلہ خیال بھی کیا گیا ۔

(جاری ہے)

بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ اور ان کے پوتے کو تحریک انصاف میں شمولیت پر خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ ذوالفقار کھوسہ کا مسلم لیگ (ن) میں ایک مقام تھااور ہم ان کے مشکور ہیں ۔

عمران خان نے میڈیا کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ ہمارا مقصد صرف اور صرف صاف اور شفاف انتخابات کا انعقاد ہے ۔ دنیا میں کہیں بھی نگران حکومتیں نہیں آتیں وہاں ادارے اور الیکشن کمیشن اتنا مضبوط ہوتا ہے کہ انتخابات آزاد اور شفاف ہوتے ہین لیکن ہمارے ہاںجو بھی حکومتیں آتی ہیں ان پر کسی کو اعتماد نہیںہوتا۔ انہوںنے کہا کہ پنجاب میں نگران وزیر اعلیٰ کے لئے ایمانداری کیساتھ ایک نام دیا لیکن عوام کا اتنا رد عمل آیا کہ وہ متنازعہ ہو گیا اب کیا ہم اسے انا کا مسئلہ بنا لیتے ۔

یہ پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین الیکشن ہے جس سے ملک کی تقدیدبدلے گی ۔ ہم چاہتے ہیں کہ غیر جانبدار امپائر ہو ں اور ان پرسب کو اعتماد ہو جو پوری ایمانداری سے انتخابات کرائیں کیونکہ 2013ء میں نگران حکومتیں ناکام ہو گئیں ۔ اب سب کی یہ کوشش ہونی چاہیے کہ 1970ء کے بعد یہ دوسرا الیکشن ہوجو صاف اور شفاف ہو ۔انہوںنے فاروق بندیال کی تحریک انصاف میں شمولیت کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ وہ کئی سالوں سے مسلم لیگ (ن) میں تھے لیکن جیسے ہی ہماری پارٹی میں شامل ہوئے تو شور مچ گیاکیا اور یہ (ن) لیگ کی اخلاقیات کا معیار ہے ۔

انہوںنے کہا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے اب اطلاعات بڑی تیزی سے ٹریول کرتی ہیں ۔ انہوںنے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ تحریک انصاف چاہتی ہے کہ انتخابات وقت پر ہوں ۔ خیبر پختوانخواہ میں ایک مسئلہ ہے اور اسی لئے پرویز خٹک نے الیکشن کمیشن کمیشن کو خط لکھا ہے ۔خیبر پختوانخواہ کے انتخابات پہلے ہونے ہیں اور اس کے چند ماہ بعد فاٹا کے انتخابات ہوں گے جس سے 16یا17اراکین اسمبلی میں آئیں گے ۔

اس وقت ہماری پانچ سے چھ اراکین کی اکثریت ہے اور جب اتنے زیادہ اراکین بعد میں آئیں گے تو اس سے حکومت غیر مستحکم ہو گی اور یہ بنیادی خدشہ ہے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ انتخابات ایک یا دو دن بعد ہو جائیں اور اس کیلئے کوشش کر رہے ہیں تاکہ فاٹا سے آنے والے اراکین کی وجہ سے حکومت غیر مستحکم نہ ہو البتہ انتخابات بروقت ہونے چاہئیں۔انہوںنے کہا کہ آج سردارصاحب اور ان کے پوتے شامل ہوئے ہیں جبکہ سیف الدین کھوسہ پہلے ہی پی ٹی آئی میں شامل ہیں ۔

انہوںنے کہا کہ ہم سپریم کورٹ کی جانب سے خواجہ محمد آصف کی نا اہلی سے متعلق فیصلے کو قبول کرتے ہیں لیکن سوچنا چاہیے کہ ایک وزیر خارجہ جو اتنی اہم پوزیشن پر ہے کیا وہ کسی دوسرے ملک کی کمپنی کا ملازم ہو سکتا ہے یہ تو مفادات کا ٹکرائو ہے اور وہ اپنی وزارت کے بل بوتے پر اس کمپنی کو فائدہ پہنچا سکتا ۔جدید جمہوریتوںبلکہ بھارت میں کوئی وزیر ایسا نہیں کر سکتا۔

سردارذوالفقار علی خان کھوسہ نے کہا کہ عمران خان نے خصوصی مہربانی کی کہ وہ اپنی مرکزی قیادت کے ساتھ میری رہائشگاہ پر تشریف لائے اور مجھے اعزاز بخشا ۔ انہوں نے کہا کہ میری مسلم لیگ (ن) کے ساتھ طویل وابستگی رہی لیکن میں کہنا چاہتا ہوںکہ اب وہ مسلم لیگ نہیں رہی بلکہ (ن) لیگ بن چکی ہے ۔ جب پارٹی عروج پر تھی تب میں نے ان سے اپنی راہیں جدا کیں میںنے انہیںپستی نہیں چھوڑا بلکہ جب وہ گرے ہوئے تھے تب میں نے پارٹی کا پرچم تھام اوربلند رکھا ۔

انہوںنے کہا کہ جب مشرف کی کابینہ کے لوگ ان کے وزیر بنے اور میں اشارہ سمجھ گیا کہ اب اس پارٹی میںمیری جگہ نہیں ۔ انہوںنے کہاکہ میں بہت سوچ سمجھ کر اوردیانتداری سے اعتماد کرتے ہوئے تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کر رہا ہوں۔۔تحریک انصاف کے ترجمان کے مطابق سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر تنویر اسلام ،شرقپور شریف سے سابق رکن پنجاب اسمبلی علی اصغر منڈا اور قصور سے سابق ضلع ناظم حاجی مقصود صابر انصاری نے بھی تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا ۔

عمران خان سے مخدوم خسرو بختیار سمیت جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے دیگر رہنمائوں نے بھی ملاقات کر کے مجموعی سیاسی صورتحال اور جنوبی پنجاب کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ۔ اس موقع پر شاہ محمود قریشی ، جہانگیر ترین اور دیگر بھی موجود تھے ۔