بحرانی کیفیت،پرائیویٹ تعلیمی اداروں کا چیف جسٹس سے سوموٹوایکشن لینے کامطالبہ

چیف جسٹس آزاد کمیشن نجی اور سرکاری ماہر تعلیم پر مشتمل بنا کر تعلیم اور نظام تعلیم کی تحقیقات کرائے،سلیم خان،نفیس اللہ

جمعہ جون 21:33

پشاور۔یکم جون (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 جون2018ء) پرائیویٹ تعلیمی اداروں نے موجودہ بحرانی کیفیت سے نکلنے کیلئے چیف جسٹس آف پاکستان سے سوموٹو ایکشن لیکرمسائل کے حل کیلئے ماہرتعلیم پرمشتمل ایجوکیشن کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیاہے۔پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک(PEN)کے صوبائی صدرسلیم خان اورچارسدہ کے صدرنفیس اللہ نے میڈیاکوبتایا کہ پانچ سال ریگو لیٹری اتھارٹی کے بل پر لگے حالانکہ اگرتمام شراکت داروں سے مشاورت کی جاتی تو یہ بل دومہینوں میں بھی بن سکتاتھااب قانون کی موجودگی تو ہے مگر بے معنی ہے۔

مسئلہ جوں کا توں عدالتوں میں زیر بحث ہے جس کی وجہ سے وقت کا ضیاع اور عوام میں پریشانی بڑھتی جارہی ہے۔16 سال تک عمر کے بچوں کو مفت تعلیم دلانے کے لئے حکومت نے کیا اقدامت کئے ہیں سرکاری اور نجی شعبہ میں تعلیم پر خرچ اور معیار تعلیم اور مراعات کا آڈٹ کیا جائے۔

(جاری ہے)

بڑھتی ھوئی آبادی اور تعلیم کے لئے مختص فنڈ اور ڈونرز کے فنڈ اور انکے استعمال کو بھی دیکھا جائے اور پھر نجی شعبہ کی کمی بیشیوں کو اور سرکار کی ذمہ داریوں کی نشاندہی کی جائے۔

حقائق یہ ہیں کہ سرکار اپنی ذمہ داری پوری کرنے سے قاصر ہے۔ موجودہ سرکاری سکولوں میں کلاسز میں تعداد متعین تعداد سے کئی گناہ زیادہ ہے۔ مختص فنڈ کا بہت بڑا حصہ تنخواہوں میں جاتا ہے اورمزید سکول آبادی کے تناسب سے بنانے اور مفت تعلیم یقینی بنانے سے حکومت قاصر ہے۔،انہوں نے کہاکہ ہم خیبر پختونخوا کے نجی ادارے چیف جسٹس اف پاکستان سے درخواست کرتے ہیں کہ ایک آزاد کمیشن نجی اور سرکاری ماہر تعلیم پر مشتمل بنا کر تعلیم اور نظام تعلیم کی تحقیقات کی جائے۔ کمیشن تمام حقائق اور اعدادوشماراکھٹا کر کے اپنی سفارشات دے تو حکومت وقت کو زمینی حقائق کے مطابق مفید ہدایات دینا نجی اور سرکاری اداروں دونوں کے لئے مفید اور انصاف پر مبنی ہونگی۔

متعلقہ عنوان :