ایکٹ 74میں13ویں ترامیم ‘آزادکشمیر کو مالی و انتظامی اختیار مل گیا

قانون ساز اسمبلی اور کشمیر کونسل کے مشترکہ اجلاس میں کثرت رائے سے ایکٹ2018کا بل منظور

جمعہ جون 21:41

مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 جون2018ء) ایکٹ 74میں13ویں ترامیم ‘آزادکشمیر کو مالی و انتظامی اختیار مل گیا ۔آزادجموں کشمیر قانون ساز اسمبلی اور کشمیر کونسل کے مشترکہ اجلاس میں کثرت رائے سے ایکٹ2018کا بل منظور۔اپوزیشن کا بائیکاٹ آزادکشمیر کو صوبہ بنانے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے جو قبل قبول نہیں متعفقہ اپوزیشن گزشتہ روز آزادجموںکشمیر قانون ساز اسمبلی اور کشمیر کونسل کے مشترکہ اجلاس جو4گھنٹے کی تاخیر سے شروع ہواجس میں وزیرقانون چوہدری جاوید اختر نے مسودہ قانون ترامیمی ایکٹ2018پیش کیا ۔

جس کے بعد اپوزیشن لیڈر چوہدری یاسین اور سردار عتیق احمد خان نے اس بل کو مسترد کرتے ہوئے بائیکاٹ کا اعلان کیا آزاد حکومت نے قومی سلامتی کونسل کے شفارت کے مطابق وفاقی کابینہ کی جانب سے آزادکشمیر کے مالیاتی و انتظامی آزادحکومت کو منتقلی اور کونسل کو ایڈوائزی باڈی رکھنے کے حوالہ سے سفاشارت منظور کر لی اپوزیشن نے بائیکاٹ کے بعد پریس کانفرنس کا انعقاد کیا جس سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر چوہدری یاسین نے کہاکہ پیپلز پارٹی نے آئین میں ترامیم کیلئے کمیٹی بنائی جس میں تمام پارلیمانی و سیاسی پارٹی کی شرکت یقینی بنائی گی آج حکومت اکثریت کے بل بوتے پر آئین کو بل ڈوز کر رہی ہے اور دنیا میں پہلی مرتبہ قانون سازی کا اختیار قانون سازوں سے لیکر کر ایگزیکیٹوکو دے دیا گیا مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد خان نے کہاکہ الیکشن سیڈول کے اعلان ہونے کے بعد کابینہ رسمی اجلاس تو ضرور کر سکتی ہے مگر فیصلہ سازی نہیں کر سکتی ہے آزادحکومت نے دوسال کیوں انتظار کیا اور رات کو چوری چھپے ترامیم کی منظوری دینا سازشی تھوری ہے آزادحکومت آزادکشمیر کو صوبہ بنانے تحریک آزادی کشمیر سے تعلق ختم کرنے کی جانب جا رہی ہے جو قبل مذمت ہے ۔

(جاری ہے)

اس موقع پر پی ٹی آئی کے رہنماء نے کہاکہ اداروں کے درمیاںن تناؤ کی کیفیت انتہائی غلط اقدام ہے آج جو لوگ اس ترامیم کو ریاست کے حق میںبتا رہی6ماہ بعد پوری ریاست متاثر ہو گی۔