ْ(ن) لیگ کے سابق گور نر پنجاب سردار ذوالفقار کھوسہ کی تحر یک انصاف میں باقاعدہ شمولیت

دھاندلی کمیشن کے فیصلے پسند نہ ہونے کے باجود جسٹس ناصر الملک کو نگران وزیر اعظم کے طور پر قبول کرتے ہیں ‘ہم بھی چاہتے ہیں ملک میں عام انتخابات اپنے مقررہ وقت پر ہو نے چاہئیں ،پرویز خٹک نے الیکشن کمیشن کو فاٹا کے انتخابات بھی فوری کروانے کا خط لکھا ‘خواجہ آصف کے حق میں عدالتی فیصلہ کو تسلیم کر تے ہیں مگر سوال یہ ہے کیسے ایک ملک کا وزیر خارجہ کسی دوسرے ملک کی کمپنی میں ملازم ہو سکتا ہے ‘ نگران وزیر اعلی کے لیے نام واپس لینے سے فرق نہیں پڑ تا کیونکہ ہمارا مقصدصرف اور صرف شفاف انتخابات کروانا ہے ‘ذوالفقار کھوسہ اور انکے بیٹے کو تحر یک انصاف میںشمولیت پر خوش آمدید کہتاہوں تحر یک انصاف کے چیئر مین عمران خان کی شاہ محمودقر یشی اور دیگر کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو

جمعہ جون 22:23

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 جون2018ء) (ن) لیگ کے سابق گور نر پنجاب سردار ذوالفقار خان کھوسہ نے تحر یک انصاف میں باقاعدہ شمولیت کا اعلان کر دیا جبکہ تحر یک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے کہا کہ ہمیں دھاندلی کمیشن میں جسٹس ناصر الملک کو فیصلہ پسند نہیں مگر اسکے باوجود انکو نگران وزیر اعظم کے طور پر قبول کرتے ہیں ‘ہم بھی چاہتے ہیں ملک میں عام انتخابات اپنے مقررہ وقت پر ہو نے چاہیے ‘پرویز خٹک نے الیکشن کمیشن کو فاٹا کے انتخابات بھی فوری کروانے کا خط لکھا کیونکہ فاٹامیں کچھ ماہ بعد الیکشن ہونے سے وہاں عام انتخابات میں جو حکومت آئیگی وہ فاٹاکی18/19نئے ایم پی ایز آنے سے عدم استحکام کا شکار ہو سکتی ہے ‘خواجہ آصف کے حق میں عدالتی فیصلہ کو تسلیم کر تے ہیں مگر سوال یہ ہے کیسے ایک ملک کا وزیر خارجہ کسی دوسرے ملک کی کمپنی میں ملازم ہو سکتا ہے ‘ نگران وزیر اعلی کے لیے نام واپس لینے سے فرق نہیں پڑ تا کیونکہ ہمارا مقصدصرف اور صرف شفاف انتخابات کروانا ہے اور ہم چاہتے ہیں 1970کے بعد عام انتخابات 2018بھی ایسے شفاف ہونے چاہیے جس کو پوری قوم او ر سیاسی جماعتیں تسلیم کر یں‘ذوالفقار کھوسہ اور انکے بیٹے کو تحر یک انصاف میںشمولیت پر خوش آمدید کہتاہوں ۔

(جاری ہے)

وہ ہفتے کے روز لاہور میں سابق گور نر پنجاب سردار ذوالفقار خان کھوسہ اور انکے صاحبزادے کی تحر یک انصاف میں شمولیت کے موقعہ پر شاہ محمودقر یشی اور دیگر کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے تحر یک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے کہا کہ فاروق بندیال مسلم لیگ (ن) میں بھی رہے ہیں مگر وہاں انکے خلاف کوئی نہیں بول مگر جیسے وہ پاکستان تحر یک انصاف میں آئے انکے خلاف سوشل میڈیا سمیت ہر جگہ سے تنقید شروع ہو گئی مجھے اس بات کی خوشی ہے کہ تحر یک انصاف میں اخلاقیات موجود ہیں اس لیے ہم نے انکو فارغ کر دیا ہے (ن) لیگ میں جتنی رہے وہاں انکے خلاف کوئی نہیں بولا اور سوشل میڈیا کی وجہ سے اب کسی بھی معاملے پر عوام کی رائے بہت تیزی کیساتھ سامنے آجاتی ہے ۔

ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ دنیا بھر میں حکومتوں کے خاتمے کے بعد وہاں نگران حکومتیں نہیں بنائی جاتی کیونکہ وہاں پر الیکشن کمیشن سمیت دیگر ادارے اتنے مضبوط ہوتے ہیں جو وہاں پر آزاد اور شفاف طر یقے سے الیکشن کرواسکتے ہیں مگر پاکستان میں ایسا بالکل نہیں ہوتا اور2013کے عام انتخابات کے بارے میں بھی تحر یک انصاف سمیت تمام سیاسی جماعتوں نے دھاندلی کی بات اور پھر ہمیں دھاندلی کمیشن میں جسٹس ناصر الملک کا فیصلہ پسند نہیں اور ہم نے سڑکوں پر نکل کر ’’مجھے کیوں نکالا ‘‘کر نے کی بجائے اس کو تسلیم کر لیا اور اب بھی ہمیں یقین ملک میں عام انتخابات مکمل طور پر شفاف ہوں گے ۔

نگران وزراء اعلی کے نام واپس لینے کے بارے سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ نگران حکومت کے قیام کا مقصدشفاف انتخابات کروانا ہے اس لیے اگر ہم کسی کا نگران وزیر اعلی کیلئے نام دیتے ہیں اور وہ کسی وجہ سے متنازعہ ہوجاتا ہے تواس پر ہمیں اس کو ’’انا ‘‘کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیے بلکہ کسی اور کا نام دینے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ شفاف انتخابات کیلئے نیوٹرل ایمپائر ضروری ہے اگر کوئی جج متنازعہ ہوجائے تو وہ کسی بنچ سے الگ ہوجاتا ہے اس لیے کسی نگران وزیر اعلی کا الگ ہو جانا کوئی نئی بات نہیں ۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں شفاف انتخابات ایسے ہونے چاہیے جن پر پبلک بھی مکمل اعتماد کر یں گے ہم چاہتے ہیں 1970کے بعد عام انتخابات 2018بھی ایسے شفاف ہونے چاہیے جس کو پوری قوم او ر سیاسی جماعتیں تسلیم کر یں ۔ ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ ‘پرویز خٹک نے الیکشن کمیشن کو فاٹا کے انتخابات بھی فوری کروانے کا خط لکھا کیونکہ فاٹامیں کچھ ماہ بعد الیکشن ہونے سے وہاں عام انتخابات میں جو حکومت آئیگی وہ فاٹاکی18/19نئے ایم پی ایز آنے سے عدم استحکام کا شکار ہو سکتی ہے اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ عام انتخابات کے چاہے چند دن بعد ہی فاٹا انتخابات ہوں مگر فاٹا میں انتخابات بھی نئی حکومت کے قیام سے پہلے ہونے چاہیے تاکہ نئی بننی والی حکومت کو کسی کے مسائل کا سامنا نہ رہے ۔

(ن) لیگ سے تحر یک انصاف میں آنیوالے سردار ذوالفقارکھوسہ نے کہا کہ عمران خان اپنی سینئر قیادت کے ساتھ میر ے گھر آئے اور مجھے اعزاز بخشا ہے اور میں تحر یک انصاف میں شامل ہو رہا ہے میں نے (ن) لیگ کو انکی مشکل نہیں بلکہ تب چھوڑا جبکہ ایک بھائی وزیر اعظم بنا اور دوسرا تیسری بار وزیر اعلی بنا ۔ انہوں نے کہا کہ جب مشرف کا وزیر قانون (ن) لیگ کا وزیر قانون رہا ہے میں نے سوچ لیا اب میری مسلم لیگ میں جگہ نہیں اور اب وہ مسلم لیگ نہیں بلکہ (ن) لیگ بن چکی ہے ۔انہوں نے کہا کہ میں سوچ سمجھ کر تحر یک انصاف اور عمران خان کی پالیسوں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے تحر یک انصاف شامل ہو رہا ہے ۔