توبہ انسان کو ہر قسم کی ظاہری ،باطنی پاکیزگی عطا کرتی ہے ‘ڈاکٹر طاہرالقادری

جسمانی اعضاء کو حدود سے تجاوز کرنے سے روکنا دین کی حفاظت کا اولین تقاضا ہے‘اللہ کی معاف کر دینے والی عظیم صفت سے بہرہ مند ہو کر توشہ آخرت جمع کیا جائے،تربیتی نشست میں گفتگو

جمعہ جون 22:28

توبہ انسان کو ہر قسم کی ظاہری ،باطنی پاکیزگی عطا کرتی ہے ‘ڈاکٹر طاہرالقادری
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 جون2018ء) )تحریک منہاج القرآن کے بانی و سرپرست شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے اصلاحی، تربیتی نشست سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہاکہ رمضان المبارک کے عشرہٴ مغفرت کی یہ بابرکت گھڑیاں اصلاحِ احوال ، گناہوں سے تائب ہونے اور اللہ کی خوشنودی کے حصول کیلئے بہت قیمتی ہیں۔ان سے استفادہ کیا جائے اور صدق دل سے اللہ سے گناہوں کی معافی طلب کی جائے اللہ کی معاف کر دینے والی عظیم صفت سے بہرہ مند ہو کر توشہ آخرت جمع کیا جائے۔

انہوں نے عشرہ مغفرت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یوں تو توبہ کہنے کو ایک لفظ ہے لیکن درحقیقت یہ اتنا بڑا عمل ہے کہ صدق دل سے کی گئی توبہ انسان کو ہر قسم کی ظاہری ،باطنی پاکیزگی عطا کرتی ہے جس کے نتیجے میں تائب کے ہر عمل سے خاص نور پیدا ہوتا ہے اور یہی بندگی کا کمال ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ توبہ کا پہلا درجہ جسمانی گناہوں سے تائب ہونا ہے، توبہ کی پہلی قسم ان گناہوں سے متعلق ہے جن کا ارتکاب انسان کے جسمانی اعضاء کے ذریعے سے ہوتا ہے چنانچہ توبہ کی ابتداء جسمانی اعضاء سے سرزد ہونے والے گناہوں کے ترک کر دینے سے ہوتی ہے۔

انسانی جسم کے 7 اعضاء انسان کیلئے کبیرہ گناہوں کا سبب بنتے ہیں، ان اعضاء میں آنکھ، کان، زبان، ہاتھ، پائوں، پیٹ اور شرمگاہ شامل ہے۔ ہر عضو کی ایک حد ہے چنانچہ ان تمام اعضاء کو اپنی حدود سے تجاوز کرنے سے روکنا دین کی حفاظت کا اولین تقاضا ہے۔ انسان کے اعضائے باطنی کی اصلاح بھی انہی اعضائے ظاہری کی حفاظت پر موقوف ہے، انہوں نے کہا کہ اسلامی تعلیمات میں گناہ کو ظلم سے تعبیر کیا گیا ہے، قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے’’ اور (یہ) ایسے لوگ ہیں کہ جب کوئی برائی کر بیٹھتے ہیں یا اپنی جانوں پر ظلم کر بیٹھتے ہیں تو اللہ کا ذکر کرتے ہیں پھر اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں اور اللہ کے سوا گناہوں کی بخش کون کرتا ہے اور پھر جو گناہ وہ کر بیٹھے تھے ان پر جان بوجھ کر اصراربھی نہیں کرتے‘‘ انہوں نے کہا کہ گناہ سے بچنا اور پھر گناہ کے بعد اللہ سے معافی مانگنا ،گناہ پر نادم ہونا اور اپنے گناہوں کا تذکرہ اور پرچار نہ کرنا ایمان والوں کی نشانی اور اللہ کے نزدیک پسندیدہ ہے۔