مضر صحت برف کی تیاری ، پنجاب فوڈ اتھارٹی کا صوبہ بھر میں آئس فیکٹریوں پر چوتھی بار کریک ڈاون

آلودہ پانی، آر او فلٹرز کی عدم موجودگی ،سابقہ ہدایات پرعمل نہ کرنے پر 89 برف خانے سیل 219 کو جرمانے،124 کے حالات تسلی بخش قرار،لاہور ڈویژن میں 31 آئس فیکٹریز سیل ْتیسری دفعہ سیل ہونے والی فیکٹری کو اس سیزن میں ڈی سیل نہیں کیا جائے گا۔ڈی جی فوڈ اتھارٹی برف عام آدمی کی ضرورت ہے، ناقص برف تیار کرنے والوں کے ساتھ کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ نورالامین مینگل

جمعہ جون 22:42

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 جون2018ء) پنجاب فوڈ اتھارٹی کی خصوصی ٹیموں نے صوبہ بھر میں آئس فیکٹریزکے خلاف چوتھی بار کریک ڈائون کر تے ہو ئے متعدد آئس فیکٹریوںکوجاری کردہ ہدایات پر عمل نہ کر نے پر سربمہر جبکہ متعدد کو جرمانے عائد کر دیے۔تفصیلات کے مطابق پنجاب فوڈ اتھارٹی کی ٹیموں نے ڈی جی فوڈ اتھارٹی نورالامین مینگل کی خصوصی ہدایات پرصوبہ بھر کی آئس فیکٹریز کی چیکنگ کی گئی۔

فوڈ سیفٹی ٹیموں نے چیکنگ کے دوران زنگ آلود مشنری ،آلودہ پانی کے استعمال،آر او فلٹرز کی عدم مو جودگی، اور سابقہ ہدایات پر عمل نہ کر نے کی بناء پر89برف خانوں کو سیل کر دیا گیا۔۔پنجاب فوڈ اتھارٹی کی خصوصی ٹیموں نی219برف خانوں کو دی گئی ہدایات پر عمل نہ کر نے پربھاری جرمانے عائد کرتے ہوئے 124آئس فیکڑیوںکے حالات کو تسلی بخش قرار دیا۔

(جاری ہے)

فوڈ سیفٹی ٹیموں نے لاہور کے مختلف علاقوں میں یا علی، میاں ،بلوچ ،عمران، اسرار، انصاف، گھوڑا، اقبال ،بسم اللہ، بلال، شیر ربانی، میزو، ارسلان،، کول پوائنٹ، شیراز،پیراڈائز اور پنجاب آئس فیکٹریوںکوسیل کیا ۔ کے مطابق۔۔پنجاب فوڈ اتھارٹی کی جانب سے صوبہ بھر کی آئس فیکٹریوں کو چوتھی بار چیک کیا جا رہا ہے۔ ڈی جی فوڈ اتھارٹی نے واضح کیا کہ تیسری دفعہ سیل ہونے والی فیکٹری کو اس سیزن میں ڈی سیل نہیں کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ تمام آئس فیکٹریوں کو پہلے ہی مکمل ہدایات اور اصلاح کے لیے تفصیلی مشاورت فراہم کی گئی تھی۔برف خانہ ورکرز کی تربیت کے لیے پی ایف اے سکول میں آئس پروڈکشن ٹریننگ کورس بھی شروع کیا جا چکا ہے۔ڈی جی نورالامین مینگل کا مزید کہنا تھا کہ ناقص برف کے استعمال سے ڈائیریا، گیسٹرو، اسہال اور معدے کی دیگر بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ برف عام آدمی کی ضرورت ہے لہذا ناقص برف تیار کرنے والوں کے ساتھ کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :

متعلقہ عنوان :