دہشتگردگی کے خاتمہ کیلئے انتہاپسندی پر قابو پانا ضروری ہے، احسان غنی

سول سوسائٹی این جی اوز اور دیگر اداروں کے ساتھ ملکر کام کرینگے ،سربراہ نیکٹا کا انٹرویو

جمعہ جون 22:54

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 جون2018ء) قومی ادارہ برائے انسداد دہشت گردی کے سربراہ احسان غنی نے کہا ہے کہ جمعہ کے منبر سے امن کے پیغام کے فروغ کیلئے اتحاد تنظیم المدارس ، علماء اور جامعات کے ساتھ ملکر کام کررہے ہیں۔دہشتگردی کے خاتمہ کیلئے ضروری ہے کہ شدت پسندی پر قابو پایا جائے۔ دہشتگردی کی مالی معاونت روکنا بھی اہم مسئلہ ہے جسکے لئے تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ’’آن لائن ‘‘کے ساتھ خصوصی گفتگو کے دوران کیا۔ قومی ادارہ برائے انسداد دہشتگردی کا کہنا تھا کہ نیکٹا ایکٹ میں پارلیمان نے تحقیق کی اہم ذمہ داری سونپی ہے۔ 2013ء میں پاس ہونے والے نیکٹا ایکٹ کی رو سے ہمارے ادارے کے اہم اہداف پالیسی بنانا ہے۔ تحقیق سے ہی معلوم ہو پائے گا کہ دہشتگردی اور شدت پسندی کی کیا وجوہات ہیں۔

(جاری ہے)

اسی غرض و غایت کے تحت آج نیکٹا اور SDPIکے مابین یاداشتوں پر دستخط کیے گئے ہیں جس کے بعد SDPIتحقیق کے شعبہ میں نیکٹا پاکستان کی معاونت کریگی ۔ ہمارے ہاں استعداد کار کی کمی ہے جس کے بعد ہماری کوشش ہے کہ سول سوسائٹی ، این جی اوز اور سرکاری اور عالمی اداروں کے ساتھ ملکر کام کیا جائے۔ چند ہ اور خیرات کے ساتھ ساتھ دہشتگردی کی مالی معاونت اور شدت پسندی کے خلاف جامعات اور نوجوانوں کے پروگرام ’’Youth Engaging programپر بھی کام کررہے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں احسان غنی کا کہنا تھا کہ جمعہ کے منبر سے امن کے پیغام کے فروغ کیلئے علماء ، مدارس اور تنظیم المدارس کے ساتھ ملکر کام کررہے ہیں۔ مدارس اور علماء کے ساتھ مل بیٹھ کر مسئلے کا حل نکالیں گے ۔ کسی پر اپنی رائے مسلط نہیں کرنا چاہتے ۔ جمعہ کے منبر سے مثبت پیغام جانا چاہیے۔ نیکٹا کے کام کے حوالے سے بات کرتے ہوئے احسان غنی نے کہا کہ ادارے کا کام پالیسی مرتب کرناہے جس کے نتائج دیر سے آتے ہیں ۔ آپریشنل کام میں فوری نتیجہ مل جاتا ہے۔

متعلقہ عنوان :