لاہور ہائیکورٹ نے پارلیمنٹ کے انتخابی فارم میں تبدیلی کالعدم قرار دیدی

جمعہ جون 23:01

لاہور۔یکم جون(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 جون2018ء) لاہور ہائیکورٹ نے پارلیمنٹ کے انتخابی فارم میں تبدیلی کالعدم قرار دیتے ہوئے حکم دیا ہے کہ الیکشن کمیشن اپنی مرضی کے مطابق فارم میں تبدیلی کرے،،پارلیمنٹ کے تیار کردہ کاغذات نامزدگی آئین سے متصادم ہیں،،عدالت نے الیکشن کمیشن کو حکم دیا کہ نئے فارم میں آئین کے آرٹیکل 62، 63کے تقاضے دوبارہ شامل کیے جائیں۔

عدالت نے پارلیمنٹ کے تیار کردہ کاغذات نامزدگی کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔۔عدالت نے الیکشن ایکٹ کی دفعہ60،110میں ترمیم بھی کالعدم قرار دی ہے۔۔لاہور ہائیکورٹ کی جسٹس عائشہ اے ملک نے درخواست گذار حبیب اکرم کی درخواست پر فیصلہ سنایا۔۔عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ الیکشن کمیشن دوہری شہریت سے متعلق امیدوار سے معلومات حاصل کرسکتا ہے،،عدالت نے کہا کہ پارلیمنٹ کو قانون سازی کا مکمل اختیار حاصل ہے۔

(جاری ہے)

پارلیمنٹ قانون سازی کرسکتی ہے۔تاہم الیکشن کمیشن کوحکم ہے کہ نئے فارم میں آئین کے آرٹیکل 62، 63کے تقاضے دوبارہ شامل کیے جائیں۔۔الیکشن کمیشن اپنی مرضی کے مطابق فارم میں تبدیلی کرے۔غیرملکی آمدن اور زیرکفالت افراد کی آمدن چھپانے کا اقدام کالعدم قرار دے دیا۔اسی طرح عدالت نے قرض نادہندگی، یوٹیلیٹی ڈیفالٹ اور پاسپورٹ چھپانے کا اقدام بھی کالعدم قرار دے دیا گیا۔

عدالت نے فیصلہ دیا کہ فوجداری مقدمات میں ملوث افراد الیکشن نہیں لڑسکتے۔اسی طرح ٹیکس نادہندہ اور دہری شہریت والے امیدوار الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتے۔۔پارلیمنٹ کے تیار کردہ کاغذات نامزدگی آئین سے متصادم ہیں۔۔عدالت نے الیکشن کمیشن کو نئے کاغذات نامزدگی تیار کرنے کا حکم دے دیا ہے۔واضح رہے لاہور ہائیکورٹ نے الیکشن کمیشن کے حوالے سے حبیب اکرم کی درخواست جزوی طور پرمنظور کرلی ہے۔دوسری جانب الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ عدالتی حکم کے مطابق نیا فارم تیار کیا جائے گا، الیکشن کمیشن نئے فارم کی مخالفت کرتا رہا ہے۔ پارلیمنٹرینز نے الیکشن کمیشن کے اعتراضات کے باوجود فارم تیار کیا۔