عائشہ احد کو دھمکیاں دینے سے متعلق کیس کی سماعت

چیف جسٹس نے دوپہر ایک بجے حمزہ شہباز کو طلب کر لیا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین ہفتہ جون 11:31

عائشہ احد کو دھمکیاں دینے سے متعلق کیس کی سماعت
لاہور (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 02 جون 2018ء) : سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں عائشہ احد کو دھمکیاں دینے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس نے حمزہ شہباز کو دوپہر ایک بجے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں طلب کر لیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق عائشہ احد نے عدالت میں کہا کہ مجھے اور میری بیٹی کو حمزہ شہباز سےجان کا خطرہ ہے۔۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے آئی جی پنجاب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ میرے حکم پر گھبرا کیوں جاتے ہیں؟ چیف جسٹس نے سماعت کے دوران خواجہ سلمان سے استفسار کیا کہ حمزہ شہباز کہاں ہیں؟ جس پر خواجہ سلمان نے جواب دیا کہ میرے علم میں نہیں ہے۔

جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سارا دن حمزہ شہباز گھومتے پھرتے رہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مجھے پتہ نہیں۔ حمزہ شہباز جہاں کہہں بھی ہوں عدالت میں پیش ہوں۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس نے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل شہباز شریف کو فون کر کے حمزہ شہباز کی پیشی کو یقینی بنائیں۔۔چیف جسٹس نے ریمارکس دئے کہ عائشہ احد میری بیٹی کی طرح ہیں، میں کسی کی جان کو خطرے میں نہیں دیکھ سکتا۔

چیف جسٹس نے کیس کی مزید سماعت کو آج دوپہر ایک بجے تک ملتوی کر دیا۔ یاد رہے کہ عائشہ احد نامی خاتون کو حمزہ شہباز کی مبینہ بیوی کہا جاتا ہے ۔ گذشتہ برس حمزہ شہباز کی مبینہ اہلیہ عائشہ احد نے کہا تھا کہ حمزہ شہباز نے مجھ سے شادی کی اور پھر مجھ سے ناروا سلوک رکھا۔ ایسا شخص کیسے حکمران بن سکتا ہے اور کیسے لوگوں کی پرواہ کر سکتا ہے؟ میں دوبارہ سپریم کورٹ سے درخواست کرتی ہوں کہ حمزہ شہباز کے خلاف نوٹس لیا جائے۔

ایک اور ٹویٹر پیغام میں انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کا نام وزارت عظمیٰ جبکہ حمزہ شہباز کا نام وزارت اعلیٰ کے لیے دیا جا رہا ہے جبکہ یہ دونوں باپ بیٹا صادق اور امین نہیں ہیں۔ اور ہم انہیں ان عہدوں پر قبول نہیں کرتے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں حمزہ شہباز کو کسی سے بھی بہتر جانتی ہوں ۔ ایسے کرپٹ اور جھوٹے آدمی کا وزیر اعلیٰ بننا کوئی قابل فخر بات نہیں ہے۔

عائشہ احد نے کہا کہ میں حمزہ شہباز کے خلاف دوبارہ عدالت جاﺅں گی اور ثابت کروں گی کہ حمزہ صادق اور امین نہیں ہے۔
مجھے حیرانی ہوتی ہے کہ جب سانحہ ماڈل ٹاﺅن میں خواتین کو قتل کیا گیا تب مسلم لیگ ن کہا ں تھی؟ ان خواتین کو آج تک انصاف نہیں ملا۔
مجھے معلوم ہے کہ لوگ مجھ پر شک کریں گے لیکن وقت طے کرے گا کہ کون صحیح ہے اور کون غلط ہے۔

لیکن میں کچھ چہروں کو بے نقاب کرنے کی پوری کوشش کروں گی۔ اللہ الحق ہے۔
جس کے بعد حمزہ شہباز نے ایک نجی ٹی وی چینل کو دئے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ میں اس پروگرام کی وساطت سے بتانا چاہتا ہوں کہ عائشہ احد سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے ۔ میرے بزرگوں نے مجھے یہی سکھایا ہے کہ عزت کی دال روٹی اس مرغن غذا سے بہتر ہے جس پر لوگ اُنگلی اُٹھائیں۔

گذشتہ برس ہی عائشہ احد نے جان سے مارنےکی دھمکیاں موصول ہونے کا بھی انکشاف کیا تھا۔ انہوں نے اس حوالے سے لاہور کی ایک مقامی عدالت میں درخواست بھی دائر کی تھی جس میں عائشہ احد نے یہ دعوٰی کیا کہ وردی اور سفید لباس والے افراد کے ان کے گھر باہر نگرانی کرتے ہیں اور ان کا گھر کے باہر تعاقب کیا جا رہا ہے۔درخواستگزار عائشہ احد نے استدعا کی کہ صوبائی وزیر قانون کو ہراساں کرنے روکا جائے اور سیکیورٹی فراہم کی جائے۔جس پر مقامی عدالت نے پولیس کو ہدایت کی کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کی عائشہ احد کو ہراساں نہ کیا جائے۔ عائشہ احد کی درخواست پر لاہور کی مقامی عدالت نے حمزہ شہباز کی مبینہ بیوی عائشہ احد کی سکیورٹی یقینی بنانے کی ہدایت کی تھی۔