عالمی عسکری اتحاد کا شام و عراق میں 892 عام شہریوں کو ہلاک کرنے کا اعتراف

عام شہریوں کی ہلاکتوں کے حوالے سے 321 شکایات کی چھان بین ابھی جاری ہے،عالمی اتحاد کے اعدادوشمارجاری

ہفتہ جون 11:58

واشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2018ء) امریکا کی قیادت میں دہشت گردی کے خلاف سرگرم بین الاقوامی فوجی اتحاد نے اعتراف کیا ہے کہ چار سال کے دوران شام اور عراق میں اس کی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں 892 عام شہری مارے گئے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق عالمی اتحاد کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا کہ اپریل میں سامنے آنے والی 159 شکایات پر غورمکمل کرلیا گیا ہے جن میں کہا فوجی کارروائیوں میں عام شہریوں کے مارے جانے کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا۔

ان میں سے 149 شکایت کی تصدیق نہیں کی جاسکی۔پانچ شکایات میں بتایا گیا کہ شام اور عراق میں فضائی حملوں میں عام شہری مارے گئے جب کہ 9جنوری 2017ء سے 18 جنوری 2018ء تک نو عام شہریوں کے مارے جانے کی تصدیق کی گئی ہے۔

(جاری ہے)

نو جنوری 2017ء کے بعد اتحادی فوج نے عراق کے شہر موصل میں داعش کے ٹھکانوں پر وسیع پیمانے پر حملے کئے تھے۔نومبر 2017ء میں شام کے دیر الزورشہر میں داعش کے ایک مرکز پرحملے کے نتیجے میں تین عام شہری مارے گئے۔

اسی طرح 16 نوبر سے 28 دسمبر 2017ء کے دوران فضائی حملوں میں عراق میں تین اور شام کے شہر الرقہ میں چار شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔بیان میں بتایا گیا ہے کہ اگست 2014ء سے اپریل 2018ء کے دوران عالمی عسکری اتحاد نے مجموعی طورپر عراق اور شام میں 29 ہزار 358 حملے کیے۔ان حملوں کے نتیجے میں جہاں بڑی تعداد میں جنگجو ہلاک اور زخمی ہوئے وہیں 892 شہری بھی مارے گئے۔ عام شہریوں کی ہلاکتوں کے حوالے سے 321 شکایات کی چھان بین ابھی جاری ہے۔غیر سرکاری اعدادو شمار عسکری اتحاد کی طرف سے جاری کردہ اعدادو شمار سے کہیں زیادہ ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیم ’ایر وورز‘ کے مطابق چار سال کے دوران عالمی فوجی اتحاد کیعراق اور شام میں حملوں کے نتیجے میں 6 ہزار 259 عام شہری مارے جا چکے ہیں۔

متعلقہ عنوان :