امریکی کانگریس نے عراق وشام کے دو شیعہ عسکری گروپ بلیک لسٹ کردئیے

امریکی کانگریس میں دونوں شیعہ عسکری گروپوں کو بلیک لسٹ کرنے کے لیے رائے شماری،حتمی اختیارٹرمپ کو دیدیا

ہفتہ جون 11:58

بغداد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2018ء) امریکی کانگریس نے عراق اور شام میں سرگرم دو شیعہ عسکریت پسند گروپ عصائب اھل الحق اور النجباء کو بلیک لسٹ کردیا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق امریکی کانگریس میں دونوں شیعہ عسکری گروپوں کو بلیک لسٹ کرنے کے لیے رائے شماری کی گئی جس کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ان دونوں تنظیموں پر پابندیاں عاید کرنے کا حتمی اختیار دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ امریکی کانگریس کی طرف سے یہ اقدام ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب قیس الخزعلی نامی لیڈر کے عسکری گروپ عصائب اھل الحق کے سرپرست الفتح اتحاد نے حالیہ پارلیمانی انتخابات میں دوسری بڑی پارٹی کے طورپر کامیابی حاصل کی ہے۔دوسری جانب عصائب اھل الحق نے امریکی کانگریس کے فیصلے کو صدمہ قرار دیا اور کہا کہ ان کی جماعت پارلیمنٹ کی 15نشستوں پر کامیابی حاصل کرنے کے نتیجے میں ملک میں جمہوریت کا حصہ بن رہی ہے مگر امریکا انہیں دیوار سے لگانے کی پالیسی پرعمل پیرا ہے۔

(جاری ہے)

بیان میں کہا گیا ہے کہ عصائب اھل الحق اور دیگر شیعہ گروپوں کی پارلیمانی انتخابات میں شاندار کامیابی نے عراق میں مذموم امریکی عزائم کو خاک میں ملا دیا ہے۔ بیان میں دھمکی دی گئی ہے کہ عصائب اھل الحق پر پابندیوں کی امریکا کو بھاری قیمت چکانا ہوگی۔خیال رہے کہ قیس الخزعلی کی جماعت عصائب اھل الحق جیش المہدی کے سنہ 2007ء میں فوج میں شامل ہونے کے وقت مقتدیٰ الصدر سے الگ ہوگئی تھی۔

اس سے قبل قیس الخزعلی اور مقتدیٰ الصدر اتحادی تھے مگر جیش المھدی کی فوج میں شمولیت سے شیعہ گروپوں میں خانہ جنگی کا خدشہ پیدا ہوگیا تھا۔قیس الخزعلی کو ایران کی جانب سے بھی مدد اور معاونت حاصل رہی ہے اور اس گروپ کے عناصر شام میں بشارالاسد کے دفاع میں لڑنے والے جنگجوؤں میں پیش پیش رہے ہیں۔ اسی طرح اکرم الکعبی کی قیادت میں قائم تحریک النجباء بھی الصدر کیمپ کا حصہ رہ چکی ہے اور اسے بھی ایران کی طرف سے عراق اور شام میں عسکری کارروائیوں کے لیے مالی اور عسکری معاونت ملتی ہے۔