انسدادہراست کا نظام سرکاری اخبار میں شائع ہونے کے بعدفوری نافذ ہوگا،سعودی عرب

ہراسیت کا عمل اسلامی شریعت کے مطابق سعودی عرب میں ایک جرم شمار کیا جاتا ہے،ترجمان وزارت داخلہ کی پریس کانفرنس

ہفتہ جون 12:37

ریاض(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2018ء) سعودی وزارت داخلہ نے بتایا ہے کہ ہراسیت کا عمل اسلامی شریعت کے مطابق سعودی عرب میں ایک جرم شمار کیا جاتا ہے۔ اس کے انسداد کا نظام آئندہ چند روز کے دوران ریاست کے سرکاری اخبار میں شائع ہونے کے فوری بعد نافذ العمل ہو جائے گا۔عرب ٹی وی کے مطابق سعودی وزارت داخلہ کے سکیورٹی ترجمان اور میڈیا افیئرز کی عام انتظامیہ کے ڈائریکٹر بریگڈیئر جنرل منصور الترکی نے دارالحکومت ریاض میں ایک پریس کانفرنس منعقد کی۔

اس پریس کانفرنس میں ہراسیت کے جرم کے انسداد کے لیے وضع کردہ نظام کے حوالے سے گفتگو کی گئی۔ سعودی کابینہ نے گزشتہ ہفتے اس نظام کی منظوری دی تھی۔منصور الترکی کے مطابق ہراسیت کا عمل اسلامی شریعت کے مطابق سعودی عرب میں ایک جرم شمار کیا جاتا ہے۔

(جاری ہے)

اس کے انسداد کا نظام آئندہ چند روز کے دوران ریاست کے سرکاری اخبار میں شائع ہونے کے فوری بعد نافذ العمل ہو جائے گا۔

وزارت داخلہ کی جانب سے تیار کردہ نیا نظام 8 شقوں پر مشتمل ہے۔ اس کا مقصد ہراسیت کے جرم کا انسداد، اس کے مرتکب افراد کے خلاف سزا کا نفاذ اور متاثرہ افراد کا تحفظ اور ان کی خلوت ، عزت نفس اور شخصی آزادی کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔الترکی نے واضح کیا کہ یہ نظام مقامات عامہ، اسکولوں، گھروں اور سوشل میڈیا پر ہراسیت کے جرائم کے انسداد کو ممکن بنائے گا۔

انہوں نے باور کرایا کہ سرکاری اور نجی سیکٹروں کو ہراسیت کے جرم کے انسداد کے واسطے اقدامات وضع کرنے کا پابند کیا گیا ہے۔۔وزارت داخلہ کے سکیورٹی ترجمان کے مطابق یہ نیا نظام سعودی ویڑن 2030 کی تکمیل کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔اس موقع پر مملکت میں جنرل سکیورٹی میں انفارمیشن کرائمز کی انتظامیہ کے سربراہ کرنل عبدالعزیز الحسن نے واضح کیا کہ سکیورٹی حکام ہراسیت کے جرم سے متعلق اطلاعات کے ساتھ پیشہ ورانہ طور پر نمٹ رہے ہیں اور کسی بھی قسم کا قدم اٹھانے سے پہلے اطلاع کے مستند اور درست ہونے کو یقینی بنایا جاتا ہے۔

کرنل الحسن کے مطابق انفارمیشن کرائمز کے انسداد کی انتظامیہ کے پاس انٹرنیٹ کے ذریعے بچوں کے استحصال کے انسداد کا ایک شعبہ ہے۔ اس کا مقصد بچوں اور کم عمر افراد سے متعلق تمام امور کو دیکھنا ہے۔