شارجہ کی نو تعمیر شُدہ جیل کو اصلاحی و بحالی مرکز کا درجہ مِل گیا

جیل کمپلیکس کی تعمیر کے دُوسرے مرحلے کا آغاز رواں ماہ سے کیا جائے گا

Umer Jamshaid عمر جمشید ہفتہ جون 13:56

شارجہ (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 2جُون 2018ء) شارجہ کے علاقے ال رمدہ میں نو تعمیر شُدہ جیل کے دُوسرے مرحلے کا تعمیری کام رواں ماہ میں شروع کر دیا جائے گا۔ اس منصوبے پر چالیس کروڑ اماراتی درہم کی لاگت آئے گی۔ اس جیل کو اس طرح سے ڈیزائن کیا گیا ہے کہ یہ جیل سے زیادہ قیدیوں کی اصلاح و بحالی مرکز کا کام دے تاکہ وہ قید سے رہائی پانے کے بعد ایک مثبت زندگی گُزار سکیں اور جرائم کی دُنیا سے کنارہ کشی اختیار کر لیں۔

جیل کی تعمیر کے دُوسرے مرحلے میں مرد قیدیوں کے لیے ایک بلاک‘ ایک انتظامی بلاک اور ورکشاپس کی تعمیر شامل ہیں۔ اس بات کا اظہار شارجہ کے جیل خانہ جات کے ڈائریکٹر جنرل کرنل احمد سُہیل نے کیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ دُوسرا مرحلہ مزید دو حصّوں پر مشتمل ہے۔

(جاری ہے)

پہلے پُرانی عمارت کو گرایا جائے گا پھر اس کی جگہ نئے بلاکس تعمیر کیے جائیں گے۔ اس جیل کمپلیکس میں ایک انتظامی عمارت‘ ورکشاپس کے علاوہ خواتین‘ مردوں اور کم سن افراد کے لیے علیحدہ علیحدہ بلاکس تعمیر کیے جائیں گے۔

تیسرے مرحلے میں ریسٹ ہالز تعمیر کیے جائیں گے۔ شارجہ کی نئی مرکزی جیل کے پہلے مرحلے کی تعمیر کا آغاز جنوری 2017ء کو کیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق اس مرحلے کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد قیدیوں کے لیے وسیع کوٹھڑیاں اور مناسب سہولیات سے آراستہ ہال میسر ہوں گے۔ اس اقدام کا مقصد قیدیوں کو صاف سُتھرا اور تندرست رکھنا ہے‘ اس کے علاوہ اُن کے لیے ایسے اصلاحی و بحالی پروگرام متعارف کرانا ہے جو انہیں جرائم کی زندگی کی طرف لوٹنے سے روک سکیں اور انہیں احساس دلا سکیں کہ اُنہوں نے زندگی میں اپنے لیے کیا خرابیاں پیدا کی ہیں۔

قیدیوں کو اُن کے اصلاحی پروگرام کی نوعیت کے لحاظ سے روزانہ کی بنیاد پر مختلف سرگرمیاں انجام دینے کو کہا جاتا ہے۔ ان اصلاحی پروگراموں میں پیشہ ورانہ ورکشاپس بھی ہیں اوراُن کی تعلیم بڑھانے کے حوالے سے پروگرام بھی ہیں جن میں کمپیوٹر کلاسز‘ سیاحتی کورسز اور حفظِ قرآن جیسے مذہبی پروگرام شامل ہیں۔ قیدیوں کو جسمانی مشقیں کرنے‘ لائبریری سے کتابیں لے کر پڑھنے‘ کھیلوں میں حصّہ لینے یا ٹی وی دیکھنے کے لیے وقت بھی مہیا کیا جاتا ہے۔

کرنل سُہیل نے مزید بتایا کہ قیدیوں اور اُن کے خاندان والوں کی فلاح و بہبود کو مدنظر رکھتے ہوئے شارجہ پولیس نے ایادی‘ شارجہ چیئریٹی ایسوسی ایشن اور امارات ریڈ کریسنٹ کے تعاون سے اصلاحی و بحالی پروگرام کا آغاز کیا ہے۔ جیل کے جن قیدیوں نے کھانا پکانے کا کورس مکمل کر لیا ہے وہ رضاکارانہ طور پر عام دِنوں میں اور رمضان کے موقع پر بھی دوسرے روزہ داروں کے لیے افطاری و سحری کا کھانا تیار کرتے ہیں۔

اس وقت 25کے قریب قیدی شارجہ سنٹرل جیل کے کچن میں کھانا پکانے کا کام انجام دے رہے ہیں۔ اس کچن کو ’العمل‘ ریسٹورنٹ کا نام دیا گیا ہے جس کے معنی ہیں ’اُمید‘۔کھانا پکانے کی اس اجتماعی کاوش کے نتیجے میں اُن کے درمیان بھائی چارے اور یگانگت کی فضا جنم لے رہی ہے اور وہ مستقبل کے لیے ایک اُمید سے جُڑ رہے ہیں۔قیدیوں کی جانب سے بنائی گئی اشیاء کی آن لائن خرید کے لیے ایک ویب سائٹ بھی تیار کی گئی ہے ۔

اس کے علاوہ بھی انہیں کئی دیگر شعبوں میں مہارت دی جا رہی ہے۔ اُن کی مہارت کے اعتراف میں ایک سر ٹیفکیٹ بھی جاری کیا جاتا ہے جو اُنہیں قید سے رہائی کے بعد فوری طور پر ملازمت حاصل کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ جیل کچن سے دِن میں دو بار کھانا دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ جیل کی کینٹین پر قیدیوں‘ ملاقاتیوں اور سٹاف کے لیے سنیکس کی سہولت موجود ہے۔