متحدہ عرب امارات ،رمضان المبارک میں ٹریفک حادثات اور جرمانوں میں اضافہ ہو گیا

شارجہ پولیس نے افطار سے قبل گھر پہنچنے کی خاطر تیز رفتاری سے کام لینے والوں کو خبردار کر دیا

Umer Jamshaid عمر جمشید ہفتہ جون 14:23

متحدہ عرب امارات ،رمضان المبارک میں ٹریفک حادثات اور جرمانوں میں اضافہ ..
شارجہ (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 2جُون 2018ء) شارجہ پولیس نے تیز رفتاری سے گاڑی چلانے والوں کو اس عمل کے خوفناک نتائج سے خبردار کر دیا ہے۔ پولیس کے مطابق رمضان میں خاص طور پر لوگ افطاری کے وقت گھر پہنچنے کی جلدی میں ٹریفک قوانین کو نظر انداز کر کے انتہائی تیز رفتاری اپناتے ہیں۔ میجر عبدالرحمان خطر‘ ڈائریکٹر کمیونیکیشنز شارجہ پولیس ٹریفک ڈیپارٹمنٹ نے کہا کہ ریڈار ڈیوائسز نے رمضان المبارک کے دوران رفتار کی خلاف ورزی کرنے والی بے شمار گاڑیوں کی نشاندہی کی ہے‘ ان میں سے دو گاڑیوں کی رفتار خطرناک حد تک زیادہ تھی۔

ریڈارز کے مطابق ایک ڈرائیور سحری کے وقت 231 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ڈرائیونگ کر رہا تھا جبکہ ایک اور کار سوار افطار سے قبل 214 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گاڑی چلاتے ہوئے پایا گیا۔

(جاری ہے)

پولیس نے کار سواروں پر زور دیا ہے کہ وہ خصوصاً رمضان المبارک میں سحر اور افطار کے اوقات میں احتیاط سے گاڑی چلائیں اور رفتار کی حد سے تجاوز نہ کریں۔

پولیس نے حال ہی میں ٹریفک حادثات اور جرمانوں میں کمی لانے کے لیے ایک آگاہی مہم شروع کی ہے۔ جبکہ ’رمضان امن‘ پروگرام کے تحت افطار کے وقت گھر نہ پہنچ سکنے والے ڈرائیورز کو سڑک پر افطاری بانٹی جاتی ہے تاکہ وہ جلد بازی کے چکر میں غیر محتاط ڈرائیونگ نہ کریں اور ٹریفک قوانین کی پابندی عمل میں لائیں۔ میجر خطر کے مطابق افطار سے قبل ٹریفک جام اور حادثات میں اضافہ دیکھنے کو مِلتا ہے کیونکہ لوگ گھر پہنچنے کی جلدی میں ہوتے ہیں تاکہ روزہ اپنے گھر والوں کے ساتھ کھول سکیں۔

اس بات کو پیش نظر رکھتے ہوئے شارجہ پولیس الاِحسان چیریٹی ایسوسی ایشن کے تعاون سے افطار کے وقت ڈرائیور حضرات میں افطاری باکس تقسیم کرتی ہے‘ تاکہ حادثات اور ٹریفک جرمانوں کی تعداد میں کمی لائی جا سکے۔میجر خطر کے مطابق لوگوں کو زیادہ تر جرمانے افطار سے پہلے تیز رفتاری کے باعث کیے جاتے ہیں‘ یا پھر تراویح کے دوران ٹریفک کے بہاؤ میں رکاوٹ ڈالنے والے ان جرمانوں کی زد میں آتے ہیں‘ کیونکہ زیادہ تر ڈرائیور اپنی کار ٹھیک طرح سے پارک نہیں کرتے جس کے باعث مسجد کے قریب سڑک پر ٹریفک بلاک ہو جاتی ہے۔

انہوں نے تمام کار سواروں پر زور دیا کہ وہ احتیاط سے گاڑی چلائیں کیونکہ تیز رفتاری سے گھر پہنچنے کی بجائے صحیح سلامت پہنچنا کہیں زیادہ اہم ہے۔ تیز رفتاری کے باعث کار سوار نہ صرف اپنی بلکہ دُوسروں کی زندگیوں کو بھی خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔