عدالت نے ڈیفالٹرز اور ڈاکوئوں کو تحفظ دینے والی پارلیمنٹ کا چہرہ بے نقاب کیا‘ ڈاکٹر طاہرالقادری

ہفتہ جون 16:46

عدالت نے ڈیفالٹرز اور ڈاکوئوں کو تحفظ دینے والی پارلیمنٹ کا چہرہ بے ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2018ء) پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے کہا ہے کہ چوروں، ڈاکوئوں، ڈیفالٹرز اور مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے امیدواروں کو تحفظ دینے والی پارلیمنٹ کا غیر آئینی چہرہ عدالت عالیہ نے بے نقاب کیا اس پر لاہور ہائیکورٹ کا معزز بنچ مبارکباد کا مستحق ہے، ختم نبوت ؐ کے قانون میں تبدیلی کی واردات اسلامیان پاکستان نے پکڑی اور ایمانداری کا تقاضا کرنے والی قانونی شقیں ختم کرنے کی واردات لاہور ہائیکورٹ نے پکڑی، اشرافیہ کی حکومت میں ایمان اور مسلمہ انسانی اقدار پر تسلسل سے حملے ہوئے ۔

وہ گزشتہ روز ٹیلیفون پر پاکستان عوامی تحریک کے مشاورتی اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔۔ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ جب یہ پارلیمانی دہشتگردی ہورہی تھی تو ہم نے اپنااحتجاج ریکارڈ کروایا تھا اور قوم کو بتایا تھا کہ کرپٹ اور قاتل ٹولہ امانت، دیانت اور صداقت کو آئین سے نکال رہا ہے ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ جس ملک کے پارلیمنٹرین کیلئے سرے سے کوئی انسانی، اخلاقی قواعد و ضوابط ہی نہ ہوں وہ منتخب ہو کر خاک جمہوریت،،آزادی،مساوات ،رواداری ،عدل عمرانی کے اصولوں اوراسلامی تعلیمات پرعمل پیرا ہونگی ۔

انہوں نے کہا کہ جو خود ڈاکو ہو گا وہ استحصال کا خاتمہ کیسے کرے گا اور بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنائے گا اور اس کے نزدیک شرف انسانی کیسے قابل حرمت ہو گا ۔انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ نے امانت اور دیانت کا تقاضا کرنے والی قانونی شقیں نکال کر صرف آئین پاکستان کے خلاف قانون سازی نہیں کی بلکہ نظریہ اسلام اور نظریہ پاکستان کی بنیادوں پر بھی وار کیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ سوچ کر گھن آتی ہے کہ پارلیمنٹ میں امیدوار کو کاغذات نامزدگی میں غیر ملکی اثاثے، مقدمات کا ریکارڈ،، یوٹیلٹی ڈیفالٹ، مجرمانہ سرگرمیاں چھپانے کی اجازت دے دی ۔انہوںنے کہا کہ کسی سزا یافتہ مجرم کو بھی جیل میں بند کرتے وقت اس کے جملہ ریکارڈ کو ملحوظ خاطر رکھا جاتا ہے مگر پارلیمنٹ میں داخل کرنے والوں کیلئے ہر قسم کے قانون اور قاعدے کو بالائے طاق رکھ دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ مروجہ نام نہاد جمہوری نظام میں اہل اور ایماندار کو برداشت کرنے کی سکت ہی نہیں ہے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ یہ نظام اتنا فرسودہ اور متعفن ہو چکا ہے کہ اگر کوئی پارلیمنٹ کے اندر مسلمہ عقیدہ ختم نبوت پر حملہ کرے یا اخلاقی حدود کو پامال کرے کسی کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے جو کام آج عدلیہ کررہی ہے یہ کام پارلیمنٹ اور پارلیمنٹرین کے کرنے کے تھے۔

انہوں نے کہا کہ میں بار دگر کہوں گا کہ چہرے بدلنے سے نہ نظام بدلے گا نہ ملک اور قوم کے حالات بدلیں گے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ شفاف انتخابات کیلئے بااختیار الیکشن کمیشن کا وجود ایک بنیادی آئینی تقاضا ہے مگر جس الیکشن کمیشن سے کاغذات نامزدگی کے فارم بنانے کا اختیار بھی چھین لیا جائے وہ الیکشن کمیشن ملک و قوم کو فیئر اینڈ فری الیکشن کا تحفہ کیسے دے سکتا ہی ۔