ریحام خان کی کتاب سوشل میڈیا پر زیر بحث

ٹویٹر پر RehamOnPMLNAgenda# کا ٹرینڈ بن گیا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین ہفتہ جون 16:46

ریحام خان کی کتاب سوشل میڈیا پر زیر بحث
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 02 جون 2018ء) : پی ٹی آئی چئیر مین عمران خان کی دوسری سابقہ اہلیہ ریحام خان کی کتاب نے گذشتہ روز سے ہی سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا کر دیا ہے ۔ ریحام خان کی کتاب کے متن کا خلاصہ حمزہ علی عباسی نے بتایا تو کئی انکشافات سامنے آئے۔ حمزہ علی عباسی کے مطابق ریحام خان نے اپنی کتاب میں عمران خان نکو شیطان کہا جبکہ شہباز شریف کی تعریفوں کے پُل باندھ دئے۔

ریحام خان کی کتاب کے کچھ نکات سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگے تو مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر RehamOnPMLNAgenda# ٹاپ ٹرینڈ بن گیا ۔ سوشل میڈیا پر موجود کئی صارفین کا خیال ہے کہ ریحام خان کی کتاب سے متعلق معلومات عام انتخابات سے کچھ دیر قبل سامنے آنا تشویشناک ہے۔ سوشل میڈیا صارفین کا خیال ہےکہ ریحام خان یہ سب ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کر رہی ہیں جبکہ کئی سیاسی تجزیہ کاروں نے بھی اس بات پر اتفاق کیاکہ ریحام خان اپنی اس کتاب سے کچھ مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہیں۔

(جاری ہے)

معروف صحافی مبشر لقمان نے ریحام خان کو لالچی قرار دے کر کہا کہ انہیں بحیثیت مسز عمران خان جو عزت ملی وہ ان کو راس نہیں آئی ، اور ان کی زندگی میں صرف ایک ہی کامیابی ان کے نصیب میں ہوئی کہ وہ کبھی عمران خان کی منکوحہ رہی ہیں۔ ریحام خان کی کتاب سے متعلق کافی قیاس آرائیاں بھی ہوتی رہیں جن میں یہ کہا گیا کہ ریحام خان کی کتاب کے پیچھے مبینہ طور پر مسلم لیگ ن کا ہاتھ ہے جو سیاسی میدان میں ریحام خان کے سابق شوہر عمران خان کی جماعت پی ٹی آئی کی حریف ہے۔

ٹویٹر صارفین نے تو اپنا فیصلہ سناتے ہوئے صاف کہہ ڈالا کہ ریحام خان بلاشبہ مسلم لیگ ن کے ایجنڈے پر ہیں، اور وہ اپنی کتاب کے ذریعے عمران خان اور پی ٹی آئی کی ساکھ کو متاثر کرنا چاہتی ہیں۔ ایک صارف نے لکھا کہ سب کو اس بات کا اچھی طرح علم ہے کہ مسلم لیگ ن کتنی غلیظ اور ریحام خان کتنی لالچی ہیں، ریحام خان اپنی شادی کو کیش کروانا چاہتی ہیں۔

ایک صارف نے ان کی کتاب کا مذاق اُڑاتے ہوئے کہا کہ ریحام خان کی کتاب کو ہر پاکستانی کچرے کے ڈبے میں ہی پھینکے گا۔
ایک صارف نے تو اپنی کتاب لکھنے پر ریحام خان کو بے شرم قرار دے دیا۔
ایک صارف نے حسین حقانی کے ساتھ ریحام خان کی ملاقات کی تصویر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی کوئی حسین حقانی سے ملاقات کرتا نظر آئے اس کا سو فیصد مطلب یہی ہے کہ پاکستان کی ساکھ کو متاثر کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

  ایک خاتون صارف کا کہنا تھا کہ ریحام خان کتنی بے شرم اور ناشکری ہیں، دراصل ریحام خان ایک مذاق ہیں، اپنی کتاب میں انہوں نے لکھا کہ عمران خان ان کی شہرت سے خوفزدہ تھے۔
ایک اور ٹویٹر صارف نے لکھا کہ میرا ذاتی خیال ہے کہ ریحام خان کی کتاب سے مسلم لیگ ن اور ریحام خان کی بھی مزید تذلیل ہو گی۔چار بچوں کی والدہ کے لیے اس قدر نیچ الزامات عائد کرنا مناسب نہیں ہے۔

ایک اور صارف نے لکھا کہ اگر ریحام خان نے اپنی کتاب میں اپنے بیڈ روم کی کہانیاں بھی بیان کر دیں تو اس سے ان کی ذہنی حالت کا پتہ چل جائے گا۔
فرحان نامی ایک صارف نے تو ریحام خان کو غدار بھی قرار دے دیا۔
ریحام خان کو کتاب لکھنے پر دھمکیاں موصول ہونے کا سلسلہ شروع ہو گیا ۔ مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں ریحام خان کا کہنا تھا کہ لوگوں کو میرے خلاف تشدد پر اُکسایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کتاب لکھنے پر مجھے دھمکیاں موصول ہو رہی ہیں، موصول ہونے والی دھمکیوں سے متعلق پولیس سے رجوع کر رہی ہوں۔
کتاب پر ہونے والی تنقید کے جواب میں ریحام خان نے کہا کہ کتاب لکھتے وقت میں نے بدلے میں پھولوں کی توقع نہیں کی تھی، جو لوگ میرا دفاع کر رہے ہیں ان کو میں کہنا چاہتی ہوں کہ جو گالیاں دے رہے ہیں وہ دیتے رہیں گے کیونکہ وہ ایسے ہی ہیں ، لہٰذا ان کو نظر انداز کرنا ہی بہتر ہے۔