حکومت پروفیسر ز،لیکچررزکے مسائل فوری حل کرکے وعدوں پر عمل درآمد کرے،جماعت اسلامی بلوچستان

ہفتہ جون 17:20

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2018ء) جماعت اسلامی کے صوبائی بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت پروفیسر زلیکچررزکے مسائل فوری حل کرکے وعدوں پر عمل درآمد کرے، حکومتی وعدوں پر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے اعلیٰ تعلیمیافتہ لوگوں میں تشویش پائی جاتی ہے حکومت وعدے کریں اور بیوروکریسی رکاوٹیں ڈالیں یہ مناسب نہیں ۔روزوں میں پروفیسرزحضرات کو ہڑتال پر مجبور کرنا دانشمندی نہیں۔

حکومت تعلیم کے فروغ ،اعلیٰ تعلیم کو بہتر بنانے کیلئے بی پی ایل اے کے چارٹرآف ڈیمانڈپر عمل درآمد کریں ۔۔جماعت اسلامی جائز مسائل کے حل کیلئے پروفیسر لیکچررزکیساتھ ہیں ۔بیان میں کہا گیا ہے کہ بیوروکریسی اور بعض حکومتی اہل کاروں کی غلط رویہ کی وجہ سے صوبہ کے مختلف مقامات پر ملازمین احتجاج وہڑتال پر ہیں مہینوں بھوک ہڑتال وکیمپس لگایے بیٹھے ہوتے ہیں حکومتی اہلکار ومنتخب نمائندے صرف خالی خولی وعدے کرکے محنت کشوں وملازمین کو غلط بیانی کرکے ٹرخاتے ہیں جو مناسب نہیں حکومت بے روزگاروں کو روزگار دینے کیلئے منصوبہ بندی کریں ملازمتیں برائے فروخت ہونے کی وجہ سے پڑھے لکھے اہل نوجوان احساس محرومی وردعمل کا شکار ہیں ۔

(جاری ہے)

بد قسمتی سے اب صوبے کے سب سے زیادہ پڑھے لکھے پروفیسرزولیکچررزبھی حکومتی ناہلی وبیوروکریسی کی چ چپقلش وغلط رویے کی وجہ سے ہڑتال مظاہروں واحتجاج پرہیں ایک طرف منتخب وزیر اعلیٰ ان سے وعدے کرتے تو دوسری طرف بیوروکریسی روٹے اٹکاتے ہیں جس کی وجہ سے مسائل حل ہونے کے بجائے بڑھ رہے ہیں بیوروکریسی کی جب اپنی مفادات کی بات ہو تو خاموشی سے ان کے مراعات وتنخواہیں بڑھ جاتی ہیں کسی کو پتہ بھی نہیں ہوتا مگر جب عوام ،ملازمین ودیگر طبقات کی بات آتی ہیں تو روڑے ڈالتے ہیں ۔

جماعت اسلامی ہر ظلم وجبر کے خلاف اورمظلوموں وپسماندہ طبقات کیساتھ ہیں بلوچستان کے عوام کو روزگار دیناحکومت کا اولین فرض ہے ملازمین کو گرمی کے روزوں میں احتجاج پر مجبور کرنا دانشمندی نہیں یہ ظلم وزیادتی ہیں جس کی ہم مذمت کرتے ہیں۔