عمران خان کی سابقہ اہلیہ ریحام خان اور ان کی لکھی گئی کتاب زیر بحث

عمران خان کے قریبی ساتھی گلوکار سلمان احمد بھی میدان میں آگئے

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین ہفتہ جون 17:44

عمران خان کی سابقہ اہلیہ ریحام خان اور ان کی لکھی گئی کتاب زیر بحث
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 02 جون 2018ء) : پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان کی دوسری سابقہ اہلیہ ریحام خان کی لکھی گئی کتاب آنے سے پہلے ہی تہلکہ مچا رہی ہے ۔ ریحام خان کے قریبی ساتھی مبین رشید کے الزامات کے بعد اب عمران خان کے دیرینہ ساتھی گلوکار سلمان احمد بھی میدان میں آگئے ہیں۔ نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے سلمان احمد نے بتایا کہ میرا فرض بنتا ہے کہ جو سچ میں جانتا ہوں میں وہ پوری قوم کو بتاؤں، کیونکہ رمضان کا مہینہ ہے اور اللہ گواہ ہے لہٰذا میں جو کچھ کہوں گا سچ ہی کہوں گا، 2014ء میں پہلی مرتبہ میری ریحام خان سے ملاقات ہوئی۔

میں ان کو ہرگز نہیں جانتا تھا، لیکن ریحام خان نے اپنی دوستی نہایت تیزی سے میری طرف بڑھانے کی کوشش کی۔ سلمان احمد نے بتایا کہ ریحام خان مجھے ایک ڈنر پر ملیں، جب انہیں علم ہوا کہ میں پاکستان میں پولیو کے خاتمے کے لیے کام کر رہا ہوں تو انہوں نے خود مجھے پیشکش کی کہ میں آپ کے ساتھ کام کرنا چاہتی ہوں۔

(جاری ہے)

آپ جب میڈیا میں جائیں گے تو میں آپ کے ساتھ ہوں گی، آپ اگر خیبرپختونخواہ جائیں گے تو مجھے پشتو آتی ہے، میں آپ کے ساتھ جاؤں گی۔

مجھے کافی عجیب لگا کیونکہ ہماری ثقافت میں خواتین خود کو اس طرح سے آگے نہیں کرتیں جس طرح میں نے دیکھا کہ ریحام خان کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ لیکن میں نے دیکھا کہ وہ میری مدد کرنے کی کوشش کر رہی ہیں تو میں نے اس سے متعلق جو ویڈیو بنائی، تب بھی ریحام خان میرے ساتھ کے پی کے کے دورے پر گئیں۔ مجھے لگا کہ وہ پولیو سے متاثرہ لوگوں کے لیے کام کرنا چاہ رہی ہیں لیکن ان کا اصل مقصد کچھ اور تھا ، چونکہ وہ جانتی تھیں کہ میں عمران خان کے قریب ہوں لہٰذا وہ میرے ذریعے عمران خان کے قریب آنا چاہتی تھیں، جب 2014ء میں دھرنا ہوا تو ریحام خان مجھے مسلسل ایس ایم ایس کیے، میں کنٹینر پر تھا اور ان کو کنٹینر تک آنے کی اجازت نہیں تھی لہٰذا انہوں نے مجھے اتنے پیغامات بھیجے ،فون کیے اور کہا کہ میرا خان سے ایک انٹرویو کروادو ، میں جرنلسٹ ہوں میرا ایک انٹرویو کروادو۔

میں نے عمران خان سے پوچھا وہ بہت مصروف تھے، لیکن پھر بھی انہوں نے کہا کہ میں 5 منٹ کے لیے فری ہوں، اس وقت ریحام خان نے ان کا انٹرویو کیا اور جرنلسٹ کی طرح پیش آئیں۔ سلمان احمد نے کہا کہ اس کے بعد جب ان کی طلاق ہوئی ، تو انہوں نے مجھے ٹویٹر میسج کیے ، ای میل بھیجی جس کا مقصد تھا کہ میں ان کے ساتھ مل کر خان صاحب کے اوپر کیچڑ اُچھالنا شروع کروں۔

اوروہ بدلے میں مسلم لیگ ن کے ٹاپ لیڈر کے ساتھ مل کر میری مدد کریں گی ۔ میں نے ریحام خان کی اس پیشکش کا انہیں کوئی جواب نہیں دیا۔ لیکن ان کا ای میل میسج اور ٹویٹر میسج میرے پاس محفوظ ہے۔ یہ ایک بہت چالاک خاتون ہیں، میں خواتین کے بارے میں زیادہ گفتگو نہیں کرنا چاہتا لیکن جس طرح ریحام خان عمران خان پر کیچڑ اُچھالنا چاہ رہی ہیں اور جس طرح وہ چاہ رہی ہیں ،ان کا مقصد کچھ لوگوں کے ساتھ مل کر ، مسلم لیگ ن کے لوگوں کے ساتھ مل کر الیکشن سے قبل خان صاحب کے اوپر کیچڑ اُچھالنا ہے۔

یہ میں ہرگز برداشت نہیں کر سکتا، اور میں لوگوں کو سچ ہی بتاؤں گا۔ پی ٹی آئی میں عامر لیاقت کی شمولیت پر میں نے ٹویٹر پر ہی تنقید کی تو ریحام خان یہ سمجھیں کہ میں وہ آدمی ہوں جس کو خریدا جا سکتا ہو۔ جس دن ریحام خان نے مجھے پیغام بھیجا اسی دن مسلم لیگ ن کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بھی مجھے پیغام بھیجا اور اپنی حمایت ظاہر کر کے مجھے کہاکہ ہم آپ کی جو مدد کر سکے کریں گے۔

لیکن آپ خان صاحب کے خلاف ہمارے ساتھ کھڑے ہوں، اسی دن حسین حقانی نے بھی مجھے پیغام بھیجا اور کہا کہ تمہارا خان صاحب کے لیے جو دکھ ہے اس میں ہم سب آپ کے ساتھ ہیں۔ وہ یہی چاہ رہے تھے کہ میں ان کے ساتھ مل کر عمران خان کو بدنام کروں اور ان پر کیچڑ اُچھالوں۔ میں نے ریحام خان کی حسین حقانی کے ساتھ تصویر بھی دیکھی ہے۔ یہ ملک دشمن لوگ ہیں ، ان کے لیے پاکستان اور جمہوریت کوئی معنی نہیں رکھتی ، ایک لیڈر ہے صرف جو کرپشن کے خلاف کھٹرا ہوا ہے اور ان کو بدنام کرنے کے لیے یہ مہم چل رہی ہے، ان کو معلوم ہے کہ اگر عمران خان کامیاب ہو گئے تو ملک سے کرپٹ لوگوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔

لہٰذا کتاب کی ٹائمنگ، ریحام خان اور حسین حقانی کی ملاقات اور پھر مسلم لیگ ن کی ڈوبتی کشتی کا صرف ایک ہی مقصد ہے کہ کسی طرح پی ٹی آئی چئیرمین عمران خان کی ذات پر کیچڑ اُچھالا جائے۔