بھاری تنخواہ وصول کرنے والے اماراتی شہری کو رشوت کے الزام میں قید کی سزا

اُس کے مفرور عرب ساتھی کو بھی غیر حاضری میں سزا سُنائی گئی

Umer Jamshaid عمر جمشید ہفتہ جون 18:11

ابوظہبی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 2جُون 2018ء) ایک انرجی کمپنی کے دو ملازمین کومقامی عدالت نے رشوت لینے اور ملازمت کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے کے جُرم میں پانچ پانچ سال قید کی سزا سُنائی ہے۔ ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے تین لاکھ اماراتی درہم کی رشوت کے بدلے میں کمپنی کے اہم ٹینڈر سے متعلق خفیہ معلومات افشاء کیں ۔ دونوں افراد کو رشوت کے طور پر وصول کیے گئے پیسوں کے مساوی رقم جرمانہ کے طور پر ادا کرنے کا حکم بھی سُنایا گیا۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق پولیس نے کمپنی کی جانب سے ملزمان کے جُرم کی اطلاع ملنے کے بعد انہیں گرفتار کیا تھا۔ استغاثہ کے مطابق اماراتی شہری کی کمپنی کے نمائندہ سے رشوت وصول کرتے وقت تصویریں بھی بنائی گئی تھیں۔ فون کالز کے ریکارڈ سے بھی اماراتی شہری کی جانب سے کمپنی کی معلومات منتقل کرنے کے بدلے میں رشوت لینے کی تصدیق ہو گئی۔

(جاری ہے)

کمپنی کے ایک ڈیپارٹمنٹ میں ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدے پر تعینات اماراتی شہری نے پُوری عدالتی کارروائی کے دوران الزامات تسلیم کرنے سے انکار کیا۔

اماراتی شہری کے مطابق وہ کمپنی کا پُرانا ملازم ہے اور ماہانہ ایک لاکھ ساٹھ ہزار درہم کی تنخواہ وصول کر رہا ہے۔ جبکہ اپنی مُدتِ ملازمت کے اختتام پر اُسے چالیس لاکھ درہم کی رقم بھی کمپنی کی جانب سے ملنا تھی تو پھر وہ اس طرح کی معمولی رشوت کے معاملے میں خود کو کیسے ملوث کر سکتا تھا۔ اُس کے مطابق اُس پر رشوت لینے کا الزام لگنے سے تین روز قبل‘ کمپنی کے ایک پارٹنر نے کیش سے بھرا ایک لفافہ اُس کی کار کے ڈیش بورڈ پر رکھ دیا۔

”میں نے اُسے بتایا کہ میں لوگوں یا کمپنیز سے کیش گفٹ وصول نہیں کرتا۔ میں نے لفافہ واپس اُس کی طرف پھینک دیا۔“ اماراتی شہری نے عدالت میں بیان دیا۔ اُس نے کہا کہ وہ اُس وقت حیران رہ گیا جب اُس پر کمپنی کی طرف سے رشوت لینے کا الزام لگایا گیا۔ ملزم کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ اُس کا مُدعی بے قصور ہے اور اُسے رشوت کے الزامات سے بری کر دینا چاہیے۔