ایاز صادق کا نامزدگی فارم سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کرنے کا اعلان

قومی اسمبلی کی مدت پوری ہونے ،انتخابات کا شیڈول جاری ہونے کے بعد اس طرح کے فیصلے پر نظر یں اور انگلیاں بھی اٹھتی ہیں ساری جماعتوں کے اتفاق رائے کے بعد یہ ایکٹ پاس ہوا پارلیمنٹ ایکٹ کو کیا اب عدالتیں تبدیل کریں گی ،پارلیمنٹ کا تقدس اہم ہے پی ٹی آئی والے جان لیں پاکستان کے فیصلے پیری مریدی ، سوشل میڈیا کے ذریعے نہیں ہوتے ،انکے بس کی بات نہیں تو کسی اور سے سپورٹ مانگ لیں ‘ گفتگو

ہفتہ جون 18:25

ایاز صادق کا نامزدگی فارم سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف اعلیٰ ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2018ء) اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے نامزدگی فارم سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کیخلاف اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی اسمبلی کی مدت پوری ہونے اور انتخابات کا شیڈول جاری ہونے کے بعد اس طرح کے فیصلے پر نظر یں اور انگلیاں بھی اٹھتی ہیں ،،سینیٹ انتخابات اسی ایکٹ کے تحت ہوئے جسے عدالت نے کالعدم قرار دیاہے،ساری جماعتوں کے اتفاق رائے کے بعد یہ ایکٹ پاس ہوا پارلیمنٹ ایکٹ کو کیا اب عدالتیں تبدیل کریں گی ،،پارلیمنٹ کا تقدس اہم ہے ۔

یہاں ماڈل ٹائون میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایاز صادق نے کہا کہ پارلیمنٹ میںساری جماعتوں نے انتخابی اصلاحات ایکٹ کومنظور کیا، اسمبلی کا کسٹوڈین ہونے کے ناطے یہ میری ذمہ داری ہے جو قانون انہوں نے پاس کیا وہ ایک سنگل بینچ جس نے فارم تبدیل کرنے کا کہا اس کے خلاف درخواست دائر فائل کروں اور اس فیصلے کو کالعدم قرار دینے کا کہوں۔

(جاری ہے)

انہوںنے کہا کہ اس سلسلہ میں مسلم لیگ (ن) ، پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتوں سے بھی مشاورت ہوئی ہے ۔

میں اپنے وکیل سے بھی مشاورت کرنے جارہا ہوں اور جتنا جلدی ممکن ہو سکے اس فیصلے کے خلاف درخواست دائر کی جائے گی ۔انہوںنے مزید کہا کہ جب قومی اسمبلی کی مدت پوری ہو جاتی ہے جبکہ انتخابات کے لئے شیڈول کا اعلان ہو چکا ہے تب فیصلہ آتا ہے،اگر یہ قومی اسمبلی کی مدت پوری ہونے سے قبل آ جاتاتو بہتر ہوتا۔۔سینیٹ انتخابات بھی اسی ایکٹ کے تحت ہوئے ہیں جسے عدالت نے کالعدم قرار دیاہے۔

الیکشن کمیشن اب نئے فارم بنائے گی پھر یہ صدر کو بھیجے جائیں گے اس سے انتخابات میں تاخیر کا خدشہ ہے لہٰذااپنی درخواست میں یہ اپیل بھی کروں گاکہ انتخابات جاری کردہ شیڈول اور مقررہ وقت پر ہی ہونے چاہئیں اور تاریخوں میں کوئی رد و بدل نہ کیا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ کیا جج صاحبہ کو یہ معلوم نہیں تھاکہ اسمبلی کی مدت کب پوری ہو رہی ہے ، انتخابات کا شیڈول جاری ہو چکا ہے ، اس فیصلے کی کیا منطق ہے ، یہ ایسا فیصلہ ہے جسے ذہن تسلیم نہیں کرتا ۔

انہوں نے کہا کہ انتخابات مقررہ وقت پر ہونے چاہئیں اور جب قومی اسمبلی کی مدت پوری ہونے اور الیکشن شیڈول جاری ہونے کے بعد ایسا فیصلہ آئے تو اس پر نظریں اور انگلیاں بھی اٹھیں گی ۔انہوںنے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کاپارلیمانی بورڈ تشکیل پا چکا ہے اور ٹکٹوں کی تقسیم کے حوالے سے جلد فیصلے ہوں گے ۔ انہوںنے نگران وزیر اعلیٰ کی نامزدگی پر پی ٹی آئی کے کردار کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ یہ کوئی چپڑاسی رکھنے کے فیصلے نہیں بلکہ قومی سطح کے فیصلے ہیں ۔

اس میں سوچ سمجھ اور برد باری چاہیے ہوتی ہے ۔ پہلے انہوںنے خیبر پختوانخواہ میں نام دیا ، اسی طرح پنجاب میںنام دیا اور ان کے دئیے ہوئے نام منظور ہوئے اور اس کے بعد ان کے پائوں کانپنے شروع ہو گئے ۔ یہ کبھی ایک نام دیتے ہیں ، کبھی دو نام دیتے ہیں کبھی ایک نام واپس لیتے ہیں ،یہ فیصلے پیری مریدی ، سوشل میڈیا کے ذریعے نہیں ہوتے بلکہ یہ پاکستان کے فیصلے ہیں ۔ اگر یہ ان کے بس کی بات نہیں تو کسی اور سے سپورٹ مانگ لیں ۔