ڈاکٹراوروکیل کی فیس بھی ریگولیٹ ہونی چاہئے ، پین

سوشل میڈیاپر نجی تعلیمی اداروں کو مافیا کہنا ،بغیرحقائق منافع کو ناجائز سمجھنا جانبدار سوچ کا عکاس ہے، ایڈیشنل جنرل سیکرٹری

ہفتہ جون 18:27

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2018ء) پرائیویٹ ایجوکیشن نیٹ ورک (PEN)کے ایڈیشنل جنرل سیکرٹری سیدانس تکریم کاکاخیل اورنائب صدرثواب خان نے کہاہے کہ سوشل میڈیاپر نجی اداروں کو مافیا کہنا اور بغیرحقائق انکے منافع کو ناجائز سمجھنا جانبدار سوچ کی عکاس ہے پھر تو سستا انصاف دینا ،صحت کی سہولیات دینا اور مال کی حفاظت کرنا اور ایسی کئی ریاستی ذمہ داریاں ہیں جس پر کنٹرول چاہئے ہوگاڈاکٹر اور وکیل کی فیس بھی ریگولیٹ ہونی چاہئے جس کیلئے ایک ریگو لیٹری اتھارٹی کا قیام ہوناچاہئے ایسے ہم اوپن مارکیٹ اکنامی سے آہستہ آہستہ کمیونسٹ معیشت کی طرف جائینگے جوفرسودہ نظام کہلائے گااورسماج میں اس کی کوئی وقعت نہیں رہے گی۔

ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ بیشک تعلیم میں دور حاظر کے تقاضوں کے مطابق اصلاحات کی ضرورت اور نجی شعبہ کو خالصتاً منافع خوری سے بتدریج نکالناچاہئے لیکن اس کیلئے حکومت کی جانب سے فروغ تعلیم کیلئے مختص رقم کودیکھنے اور جانچنے کی ضرورت ہے یہ سب مروجہ قانون وآئین کی روشنی میں کرنالازمی ہے اگرقانون میں کمی ہے تونئے قوانین بنائے جائیں اگرادارے کمزورہیں توانہیں مضبوط کیاجائے ریگولیٹری اتھارٹی کو اپنے قانون اور قاعدوں کے مطابق چلایا جائے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہاکہ گذشتہ چند مہینوں سے چند وکلاء نے سوشل میڈیا پر نجی اداروں کو جتنابدنام کیا اسکا نتیجہ یہ نکلے گا کہ کوئی بھی شریف ،عزت دار آدمی ادارہ کھولنے سے گھبرائے گا جبکہ ہمیں موجودہ اداروں کی کامیابی سے چلانے کے ساتھ ساتھ پچیس فی صد مزید ادارے بھی چاہئے ہونگے۔نجی سیکٹرمافیا اس صورت کہلاتااورحکومتی مداخلت کی ضرورت اس وقت پیش آتی اگر یہ کسی ایک گروپ یا فرد کے ہوتا نجی ادارے مختلف سائز کے مختلف فیس سٹرکچر کے ساتھ مختلف جگہوں پر واقع ہیں اور خود مختار حیثیت سے اپنا کام سرانجام دے رہے ہیں۔

500 سے فیس لیکر 2500 تک کے ادارے ہزاروں میں ہیں اور جو 2500 سے اوپر فیس کے ہیںوہ پورے صوبے میں سینکڑوں میں بھی نہیں ہونگے ایسے میں چند اداروں کو بنیاد بنا کر پورے سیکٹر کو ذلیل کرنا انصاف پر مبنی نہیں۔ اعلی عدالتوں کا احترام ہم پر واجب ہے اور انصاف مہیا کرنا عدالتوں کا فرض ہے نجی اداروں کو حدف بنانے کی بجائے حکومت موثرقانون بنائے تا کہ کسی بھی سرکاری ملازم کابچہ نجی سکولوں میں داخل نہ ہو۔

متعلقہ عنوان :