سپریم کورٹ کا لاہور جنرل ہسپتال کے پرنسپل غیاث النبی طیب کو عہدے ہٹانے کا حکم

ہسپتال ویسٹ کیس میں سیکرٹری صحت پنجاب کے معافی مانگنے پر بلوچستان تبادلہ کا فیصلہ واپس لے لیا گیا

ہفتہ جون 18:44

سپریم کورٹ کا لاہور جنرل ہسپتال کے پرنسپل غیاث النبی طیب کو عہدے ہٹانے ..
لاہور۔2 جون(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2018ء) سپریم کورٹ نے پنجاب کے سرکاری ہسپتالوں سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت کرتے ہوئے لاہور جنرل ہسپتال کے پرنسپل غیاث النبی طیب کو عہدے ہٹانے کا حکم دے دیا ۔ جبکہ ہسپتال ویسٹ کیس میں سیکرٹری صحت پنجاب علی جان کے معافی مانگنے پر انھیں او ایس ڈی کرنے اور بلوچستان تبادلہ کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا گیا۔

چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے ہفتہ کو سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میںسرکاری ہسپتالوں سے متعلق از خود نوٹس کیس کی سماعت کی،، عدالت نے سیکرٹری صحت کو 2 ماہ میں آزاد سرچ کمیٹی کے تحت لاہور جنرل ہسپتال کا نیا پرنسپل تعینات کرنے کا حکم دے دیا، عدالت نے واضح کیا کہ محکمہ صحت آزاد سرچ کمیٹی کی منظوری عدالت سے لے، چیف جسٹس نے قرار دیا کہ امیر الدین ہسپتال، پی جی ایم آئی اور نیورو ہسپتال میں الگ الگ انہی کے شعبے سے پرنسپل لگائیں۔

(جاری ہے)

دوران سماعت چیف جسٹس نے قرار دیا کہ مجھے معلوم ہے غیاث النبی طیب کو آزاد سرچ کمیٹی کے تحت پرنسپل تعینات نہیں کیا گیا، جس پر چیف سیکرٹری نے پہلے انکار اور پھر اقرار کر لیا. علاوہ ازیں ہسپتالوں کا فضلہ ٹھکانے لگانے کے لیے از خود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران سیکرٹری صحت علی جان رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ فضلہ کو ٹھکانے لگانے کے لیے 10پلانٹ نصب کردئیے ہیں، اس موقع پر چیف جسٹس نے سیکرٹری صحت کو خبردار کیا کہ آپ سے متعلق بہت شکایت ہیں کہ آپ خواتین ملازمین کو تنگ کرکے تبادلے کرتے ہیں، جس پر سیکرٹری صحت علی جان نے چیف جسٹس سے معافی مانگ لی، چیف جسٹس نے سیکرٹری صحت کو او ایس ڈی کرنے اور بلوچستان تبادلہ کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا، عدالت نے واضح کیا کہ ملازمین کو تنگ کرنا بند کرو، عدالت آپکے رویہ کی خود مانیٹرنگ کرے گی۔