اہم شخصیات کودی گئی سیکیورٹی رپورٹ مسترد‘ سیاستدان خود سکیورٹی کا بندوبست نہیں کرسکتے تو انہیں بیت المال سے 60ہزار روپے دئیے جائیں‘سپریم کورٹ

راناثنا‘ مریم اورنگزیب، انوشہ رحمان‘ عابد شیر ایک طرف عدلیہ کوگالیاں نکالتے ہیں اور دوسری طرف سیکیورٹی مانگتے ہیں، آئی جی صاحب آپ نے عدلیہ مخالف بیانات دینے والوں کوسیکیورٹی فراہم کررکھی ہے‘ ملک میں حاکمیت صرف اللہ اور قانون کی ہوگی جب کہ قوم کا پیسہ سیاست دانوں کی سیکورٹی پر لٹانے کی اجازت نہیں دیں گے چیف جسٹس ثاقب نثار کا ڈی آئی جی عبدالرب سے استفسار

ہفتہ جون 19:42

اہم شخصیات کودی گئی سیکیورٹی رپورٹ مسترد‘ سیاستدان خود سکیورٹی کا ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2018ء) سپریم کورٹ نے چاروں صوبوں میں اہم شخصیات کودی گئی سکیورٹی کی رپورٹ مسترد کر تے ہوئے کہا ہے کہ اگر سیاستدان خود سکیورٹی کا بندوبست نہیں کرسکتے تو انہیں بیت المال سے 60 ہزار روپے دیے جائیں، چیف جسٹس ثاقب نثار نے آئی جی سے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ نوازشریف،، شہبازشریف، احسن اقبال،، ایازصادق اور زاہد حامد کی سیکیورٹی توسمجھ میں آتی ہے لیکن راناثنا، مریم اورنگزیب،، انوشہ رحمان، عابد شیر اور احسن اقبال کے بیٹے کو سیکیورٹی کس لیے دی جارہی ہے، یہ لوگ ایک طرف عدلیہ کوگالیاں نکالتے ہیں اور دوسری طرف سیکیورٹی مانگتے ہیں، آئی جی صاحب آپ نے عدلیہ مخالف بیانات دینے والوں کوسیکیورٹی فراہم کررکھی ہے، ملک میں حاکمیت صرف اللہ اور قانون کی ہوگی جب کہ قوم کا پیسہ سیاست دانوں کی سیکورٹی پر لٹانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

(جاری ہے)

ہفتہ کو سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے اہم شخصیات کو سیکیورٹی دینے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔۔سماعت کے آغاز پر پنجاب پولیس کی جانب سے سیاستدانوں کو دی گئی سیکیورٹی سے متعلق رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی۔۔پولیس رپورٹ پر چیف جسٹس نے پولیس حکام سے استفسار کیا کہ کتنے لوگوں کو سیکیورٹی فراہم کی گئی ہی اس پر ڈی آئی جی عبدالرب نے بتایا کہ 31سیاستدانوں کو سیکیورٹی فراہم کی گئی ہے۔

اس موقع پر ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے کہا کہ عدالت سیاستدعا ہے ایک مرتبہ نام پڑھ لیے جائیں۔۔چیف جسٹس نے فہرست دیکھ کر کہا کہ نوازشریف،، شہبازشریف، احسن اقبال،، ایازصادق اور زاہد حامد کی سیکیورٹی توسمجھ میں آتی ہے لیکن راناثنا، مریم اورنگزیب،، انوشہ رحمان، عابد شیر اور احسن اقبال کے بیٹے کو سیکیورٹی کس لیے دی جارہی ہے، یہ لوگ ایک طرف عدلیہ کوگالیاں نکالتے ہیں اور دوسری طرف سیکیورٹی مانگتے ہیں، آئی جی صاحب آپ نے عدلیہ مخالف بیانات دینے والوں کوسیکیورٹی فراہم کررکھی ہے۔

جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ ایک سیکیورٹی اہلکار25ہزار میں پڑتاہے اور ایک سیاستدان کم از کم 60ہزار میں، قوم کا پیسہ ہے، اس طرح لٹانے کی اجازت نہیں دیں گے،یہ لوگ خود سکیورٹی کا بندوبست نہیں کرسکتے تو بیت المال سے 60 ہزار روپے دیے جائیں۔آئی جی پنجاب نے عدالت کو بتایا کہ حمزہ شہباز کو ایک چار کی سیکیورٹی دی گئی ہے، اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ مجھے کتنی سیکیورٹی دی گئی ہی آپ نے مجھے حمزہ شہباز کے برابر کی سیکیورٹی دی ہے، آپ نے تو ججز اور سپریم کورٹ کے ججز کی سیکیورٹی سے انکار کردیا تھا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ پولیس کو سیاستدانوں سمیت اہم شخصیات کی سیکیورٹی پر لگا دیا گیا ہے، کیا پولیس کا صرف یہی کام رہ گیا ہی عدالت نے چاروں صوبوں میں اہم شخصیات کودی گئی سکیورٹی کی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے سیکیورٹی دینے والی کمیٹی کے تمام ارکان کو رات 8 بجے طلب کرلیا۔جسٹس ثاقب نثار نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ سے استفسار کیا کہ سندھ میں کتنے لوگوں کو سیکیورٹی فراہم کی جارہی ہی اس پر ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ سندھ میں 4 ہزار لوگوں کو سیکیورٹی فراہم کررہے ہیں۔۔چیف جسٹس نے کہا کہ آپ نے 4 ہزار لوگوں پر پولیس کو تعینات کررکھا ہے، میں کراچی آرہا ہوں کمیٹی کوبلالیں۔