آزاد کشمیر کے عبوری آئین ایکٹ 1974 ء میں آئینی ترامیم کے ذریعہ آزاد کشمیرحکومت کو مالی اور انتظامی لحاظ سے با اختیار بنانے کا اقدام تاریخ ساز ہے‘وزیراعظم فاروق حیدر‘سینئر وزیرطارق فاروق اورساری حکومتی ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے

مسلم لیگ (ن) کے ضلعی جنرل سیکرٹری سابق چیئرمین بلدیہ خورشید احمد قادری ایڈووکیٹ کی بات چیت

ہفتہ جون 20:26

مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2018ء) مسلم لیگ ن کے ضلعی جنرل سیکرٹری سابق چیئرمین بلدیہ خورشید احمد قادری ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ آزاد کشمیر کے عبوری آئین ایکٹ 1974 ء میں تیرویں آئینی ترامیم کے ذریعہ آزاد کشمیرحکومت کو مالی اور انتظامی لحاظ سے با اختیار بنانے کا اقدام تاریخ ساز ہے ،جس کے لئے وزیراعظم راجا فاروق حیدرخان ،سینئر وزیرچوہدری طارق فاروق اورساری حکومتی ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے چالیس سال بعد آئینی ترامیم کے ذریعے آزاد کشمیر کا ریاستی تشخص اور وقار بحال کرنے کی عملی کاوشوں کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلم لیگ ن کی حکومت عوام کو با اختیار بنانے کے لئے سنجیدہ ہے ،کشمیر کونسل کی ایڈوائزری حیثیت کے سلسلہ میں قانون سازی فیصلہ کن اوراہم ترین معرکہ ہے ، تیرویں آئینی ترامیم کی منظوری آزاد کشمیر اور پاکستان کے مابین تعلقات اور اعتماد کی بحالی و استحکام کا باعث ہو گی ، اس آئینی ترامیم کی منظوری کا سیز فائر لائن کے اس پار مثبت پیغام گیا ہے ،آج کشمیری قوم کے تمام مکاتب فکر اس کامیابی پر اپنی قیادت اور قانون ساز اسمبلی کے تمام ممبران کے شکر گزار ہیں وزیراعظم راجا فاروق حیدر خان نے انتخابی مہم کے دوران کشمیر کونسل کے متوازی کردار کو محدود کرنے اور اسے اپنی حدود کے اندر لانے کا وعدہ کیا تھا جو ترجیحاً پورا کر لیا گیا ہے ، آزاد کشمیر حکومت کو مالیاتی اور انتظامی اختیارات ملنے سے خطہ کے اندر جہاں سیاسی استحکام پیدا ہوگا وہاں تعمیر و ترقی کے نئے دور کا آغاز بھی ممکن ہوگا انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کے کارکن تیرویں آئینی ترامیم کی منظوری پر خوش ہیں اور قیادت کے شکر گزار بھی ہیں سابق چیئرمین بلدیہ نے مذید کہا کہ تیرویں آئینی ترامیم کی منظوری کے سلسلہ میں سینئر وزیر چوہدری طارق فاروق کی کاوشیں اور وزیراعظم راجا فاروق حیدر خا ن کی محنت کا کمال ہے کہ آج اک نئے آزاد کشمیر کا منظر واضح ہے ۔