13ویں آئینی ترمیم کے ذریعہ آزاد کشمیر حکومت کو مزید فعال اور باوقار بنانے میں مدد ملے گی ‘اس سے آزاد خطہ میں خوشحالی ممکن ہو سکے گی‘ ایکٹ 74 میں ترمیم کی منظوری ایک تاریخی فیصلہ ہے جو روشن مستقبل کی نوید ہے

مسلم لیگ (ن) آزادکشمیر کے مرکزی جوائنٹ سیکرٹری چوہدری احسن منظور کی بات چیت

ہفتہ جون 20:30

مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2018ء) مسلم لیگ (ن) آزادکشمیر کے مرکزی جوائنٹ سیکرٹری چوہدری احسن منظور نے کہا ہے کہ 13ویں آئینی ترمیم کے ذریعہ آزاد کشمیر حکومت کو مزید فعال اور باوقار بنانے میں مدد ملے گی اور اس سے آزاد خطہ میں خوشحالی ممکن ہو سکے گی۔ ایکٹ 74 میں ترمیم کی منظوری ایک تاریخی فیصلہ ہے جو روشن مستقبل کی نوید ہے۔

ایکٹ 74 میں ترمیم اور اسے بہتر بنا کر آزادکشمیر کو مالی اور اقتصادی خوداختیاری کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے سابق وفاقی کابینہ کی منظوری پر پوری قوم کو مبارک باد پیش کرتے ہیں۔وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان اور انکی پوری ٹیم کی سیاسی جدوجہدعزم و جنون اور استقامت کو سلام پیش کرتے ہیں کہ مسلم لیگ ن نے اقتدار سنبھالنے کے بعد جہاں بنیادی اصلاحات کے ایجنڈے پر تیزی سے عملدرآمد کیا وہی اس نے ایکٹ 74 میں مزید بہتری لا کر ریاست کو بااختیار بنانے کیلیے کام شروع کیا۔

(جاری ہے)

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں موجودہ حکومت جہاں آزاد خطہ کی خوشحالی اور بلا تخصیص تعمیر وترقی کے لیے کوشاں ہے وہاں وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ملکی اور عالمی سطح پر رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدرنے تمام تر اندرونی و بیرونی سازشیوںاور دباؤ کے باوجود جس ہمت حوصلہ اور جوانمردی سے اپنے اس وعدہ کو پایہ تکمیل تک پہنچایا اس کی آزاد کشمیر کی سیاسی و آہینی تاریخ میںکو ئی مشال نہیں ملتی ۔

انہوں نے کہا کہ ہم قائد پاکستان میاں محمد نواز شریف سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان کے شکر گزار ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم آزاد کشمیر کو آزاد کشمیر کے عبوری آہین ایکٹ 1974 میں عوامی امنگوں کے مطابق ترامیم کرانے اور کشمیر کونسل سے آزاد کشمیر کے عوام کو رستگاری دلانے کی جدو جہد میں کامیابی پہ مبارک باد پیش کرتے ہیں۔انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ اس حوالے سے آنے والی مثبت تبدیلیوں سے ایک طرف خطے کے عوام کو ثمرات حاصل ہونگے اور ایک ترقی یافتہ،خوشحال اور باوقار ریاست اپنے شہریوں کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں دینے کیلیے اہم اقدامات کرے گی جس سے تمام طبقے یکساں مستفید ہوں گے۔