کشمیر آر فن ریلیف ٹرسٹ کے زیر اہتمام افطار ڈنر کا اہتمام

ہفتہ جون 20:30

میرپور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2018ء) کشمیر آر فن ریلیف ٹرسٹ کے زیر اہتمام افطار ڈنر کشمیر آرفن ریلیف ٹرسٹ ایجوکیشنل کمپلیکس اختر آباد میں اہتمام کیا گیا ۔ جس میں آزادکشمیر سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس محمد یونس طاہر ، چیئر مین کورٹ چوہدری محمد اختر ، اسٹیشن ڈائریکٹر ریڈیو میرپور محمد شکیل ، سابق چیئر مین ایم ڈی اے چوہدری محمد حنیف ، سابق سیکرٹری تعلیمی بورڈ پروفیسر مرزا شاہر منیر جرال ، پراجیکٹ ڈائریکٹر رٹھوعہ ہریام برج شیخ ارشد محمود ، انلینڈ ریونیوکے آفیسر مرزا طلعت محمود ، سابق صدر کشمیر پریس کلب محمد امین بٹ ، انفارمیشن آفیسر محمدجاوید ملک کے علاوہ ٹرسٹی ، کورٹ کے طلباء و طالبات ، سٹاف اور سول سوساسٹی کے افراد نے شرکت کی ۔

یتیم اور بے سہارا بچوں کے ساتھ افطار ڈنر کرنے کا مقصد ان بچوں کی خوشیوں میں شامل ہونا تھا اور انھیں یہ احساس دلانا تھا کہ کورٹ کے بچے اپنے آپ کو تنہا نہ سمجھیں بلکہ اہلیان میرپور اور ٹرسٹی ان کے ساتھ ہیں ۔

(جاری ہے)

شرکاء ڈنر نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یتیم اور بے سہارا بچوں کو کورٹ کی صورت میں جو سہولیات و مراعات چوہدری محمد اختر نے دے رکھی ہیں وہ کسی فائیو سٹار ہوٹل سے کم نہیں ہیں ۔

کورٹ کے زیر اہتمام 500 بچیوںکا ہاسٹل مکمل ہو گیا ہے جبکہ 500 بچوں کے لیے 4 منزلہ عمارت تعمیر کے آخری مراحل میں ہے اس طرح کورٹ میں بچوں اور بچیوں کے لیے الگ الگ کھانے کے ہال بھی بنائے گے ہیں ۔ کورٹ میں بچوں اور بچیوں کی کفالت اور انھیں اعلیٰ تعلیم تک رسائی کے لیے جو اقدامات اٹھائے ہیں وہ قابل ستائش ہیں ۔ کورٹ کے بچوں اور بچیوں کی جملہ ضروریات اس طرح پوری کی جا رہی ہیں جس سے ان بچوں میں احساس محرومی پیدا نہ ہو ۔

اسٹیشن ڈائریکٹر محمد شکیل نے کہا کہ چوہدری محمد اختر نے کورٹ کا ادارہ قائم کرکے جنوب ایشیاء میں مثال قائم کر دی ہے انھوں نے کہا کہ یتیم اور بے سہارا بچوں کی کفالت اور تعلیم و تربیت ایک بہت بڑی عبادت ہے ۔ چوہدری محمد اختر کی کورٹ کے لیے گراں قدر خدمات کو پوری دنیا میں سراہا جا رہا ہے کورٹ اب یتیم خانہ نہیں بلکہ یہاں داخل ہر بچہ کورٹ کو اپنا گھر سمجھتا ہے ۔

اس موقع پر چیئر مین کشمیر آرفن ریلیف ٹرسٹ چوہدری محمد اختر نے کہا ہے یتیم اور بے سہارا بچوں کی تربیت اور کفالت کے لیے اللہ تعالیٰ مجھ سے جو کام کروا رہے ہیں وہ اللہ کی رضا کی وجہ سے انسانیت کی فلاح و بہبودکے لیے ہیں اس میں میرا کوئی کمال نہیں میں نے صدق دل سے کام کیا اور اس نیکی کے کام میں لوگ شامل ہوتے گے جس کے باعث آج کورٹ نہ صرف جنوب ایشیاء بلکہ دنیا میںا یک مثالی ادارہ ہے ۔

کورٹ ایجوکیشنل کمپلیکس میرا نہیں بلکہ ہر اس شخص کی ملکیت ہے ۔جو ان بچوں کی تعلیم و تربیت کا جذبہ رکھتے ہیں ایک اینٹ عطیہ دینے والا شخص بھی اس کا آنر ہے انھوں نے کہا کہ مجھے اپنے ٹرسٹی حضرات پر فخر ہے کہ انھوں نے آنکھیں بند کر مجھ پر اعتماد کیا جس کے باعث آج کورٹ کی شکل میں عظیم الشان عمارت کے ساتھ ساتھ ایک مثالی ادارہ بچوں کی پروش کا فریضہ سرانجام دے رہا ہے ۔