پیپلزپارٹی ریاست کی تعمیر وترقی اور ریاست کو بااختیار بنانے کیلئے مالی اور انتظامی امور کے اختیارات آزاد حکومت کو منتقل کرنے کے حق میں ہے ‘اور اسی لیے ہم نے اپنے دور حکومت میں تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین کے ساتھ مشاورت کے بعد آئینی کمیٹی نے جامعہ سفارشات مرتب کیں

آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری محمد یاسین کی بات چیت

ہفتہ جون 20:30

مظفرآباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2018ء) آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری محمد یاسین نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی ریاست کی تعمیر وترقی اور ریاست کو بااختیار بنانے کے لئے مالی اور انتظامی امور کے اختیارات آزاد حکومت کو منتقل کرنے کے حق میں ہے ،اور اسی لیے ہم نے اپنے دور حکومت میں تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین کے ساتھ مشاورت کے بعد آئینی کمیٹی نے جامعہ سفارشات مرتب کیں جن پر تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین متفق تھے لیکن حکومت نے ان جامعہ تجاویز کے بجائے اپنی بنائی گئی ترامیم کو اندھیرے میں رکھ کر پاس کروایا اس سے شکوک و شبہات نے جنم لیا، اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئین کی اس تیرویں ترمیم سے جتنے ختیارات آزاد حکومت کو ملے ہیں پیپلزپارٹی کے مسودے کو منظور کروایا جاتا تو آزاد کشمیر کو زیادہ فواہد حاصل ہوتے آزاد کشمیر کو ان ترامیم سے فاہدے کے بجائے نقصان پہنچا ہے پہلے جموں و کشمیر کونسل جو کہ آزاد کشمیر کا ایک آہینی ادارہ تھا معاملات اس کے سپرد تھے لیکن ان ترامیم کی منظوری کے بعد یہ تمام اختیارات ایگزیکٹو کے پاس چلے گہے ہیں اس سے زیادہ خرابی پیدا ہوگی۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ان ترامیم کا اصل مقصد آزاد کشمیر کی خصوصی حثیت کو ختم کر اسے صوبہ بنانے کی سازش ہے اور بتدریج آہین میں ترامیم کر کے آزادکشمیر کو صوبہ بنا کر تحریک آزادی کشمیر کو سبوتاژ کرنا ہے انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کی ساری اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کے اس مسودے کو مسترد کر دیا ہے۔

متعلقہ عنوان :