17ر مضان المبارک جنگ بدر کے عظیم واقعے کی یاد دلاتا ہے،پیر مفتی مقصود احمد سعید اشرفی

ہفتہ جون 20:53

رائیونڈ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2018ء) تحریک لبیک یا رسول اللہ کے امیر جامع شیر ربانی نقشبندیہ مجددیہ کے مہتم حضرت پیر مفتی مقصود احمد سعید اشرفی نے کہا کہ 17 ما ہ ر مضان المبارک کو جنگ بدر کا واقع پیش آیا تھا ،میرے آقا ؐتاجدار مدینہ نی313 صحابہ اکرام کیساتھ جنگ بدر کیلئے لشکر کشی کی جس میںبوڑھے، بھوکے نگے بچے 2گھوڑے سامل تھے،ان کے پاس چند آلات تھے اور نہ ہی خوراک کا کوئی انتظام تھا،خراستہ میں دیکھنے والے ان کا مذاق اڑارہے تھے کہ یہ مکہ کے سرداروں سے مقابلہ کریں گے جو چلنے کے قابل نہیں۔

جنگ بدر کے ریگستان پر آسمان آگ برسا رہا تھااور پتھریلی زمین لوہے کے طرح سر خ ہورہی تھی،حضور اقدس ؐ نے اللہ کے حضور دعا فرمائی کہ اے میر ے ر ب ا لعزت جنگ بدر کے مجاہد کی غیبی مدد فرما تاکہ قیامت تک تیرانام زندہ اور تمیں اپنا رب اور رازق ،خالق، مانتے رہیں اللہ تعالی نے غیبی مدد کے لئے آسمان سے فرشتے اور کمزوروں کو طاقت ور بنادیا جنت کی ٹھنڈی ہواؤںکے تھپیڑے رم جم کی سماع بنادیامکہ کے سردار ابو جہل کو دو بچوںنے واصل جہنم کر دیاوہ کون بد بخت نامراد ہے جو کہتا کہ ہمارے آخرالزمان نبیؐکی دعا قبول نہیںہوتی بلکہ انکے وسیلہ کے بغیر دعا قبول ہو تی ہی نہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ رمضان المبارک رحمتوں وبرکتوںوالا مہینہ ہے حضور اقدس ؐنے فرمایا کہ جب تک میری امت ماہ رمضان کہ حرمت باقی رکھے گی وہ رسوا نہیں ہو گی،ماہ رمضان میں ہر روز طلوع آفتاب سے افطار کے وقت تک اللہ تعالی اپنے بندوں کو خواہ مرد یا عورت جہنم سے آزادی عطا فرماتا ہے،آسمان سے ندا دینے والا ایک فرشتہ ہوتاہے جس کی چوٹی عرش کے نیچے تک اور پاؤں زمین کی ساتویںطبقہ کی انتہا پر ہوتے ہیں اسکا ایک بازومشرق اور دوسرا مغرب میں ، اس کے سر پر لولو،مرجان اور جوار کا تاج ہوتاہے یہ ندا دینے والافرشتہ پکار تا ہے کہ ہے کوئی توبہ کرنے والا کہ اس کی توبہ قبول کر لی جائے کوئی مانگنے والاجس کی دعا قبول کر لی جائے کوئی مظلام ہے جس کی داد رسی کی جائے کوئی مغفرت کا طلب گار ہے جس کی مغفرت کر دی جائے کوئی سائل ہے جس کا سوال پورا کر دیا جائے۔