چیف جسٹس ثاقب نثار نے جنرل ہسپتال لاہور کے پرنسپل غیاث النبی طیب کو عہدے سے ہٹانے کا حکم دیدیا

ہفتہ جون 21:30

چیف جسٹس ثاقب نثار  نے جنرل ہسپتال لاہور کے پرنسپل غیاث النبی طیب کو ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2018ء) چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں قائم دو رکنی بنچ نے جنرل ہسپتال لاہور کے پرنسپل غیاث النبی طیب کو عہدے سے ہٹانے کا حکم دیدیا اور سینئر ترین افسر کو قائم مقام پرنسپل تعینات کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے سیکرٹری صحت پنجاب کو 2 ماہ میں آزاد سرچ کمیٹی کے تحت نیا پرنسپل تعینات کرنے کا حکم دیدیا اور سرچ کمیٹی کی منظوری عدالت سے لینے کی ہدایت کی ہے۔

فاضل چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ مجھے معلوم ہے کہ غیاث النبی طیب کو آزاد سرچ کمیٹی کے تحت پرنسپل تعینات نہیں کیا گیا۔ فاضل چیف جسٹس نے سیکرٹری صحت سے استفسار کیا کہ بتائیں کہ وہ ٹھیک کہہ رہے ہیں جس پر سیکرٹری صحت نے کہا کہ نہیں ایسی بات نہیں ہے۔

(جاری ہے)

چیف سیکرٹری نے پہلے انکار اور پھر اقرار کر لیا۔ فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ غیاث النبی طیب کو آرام دیں اور میرٹ پر پرنسپل تعینات کریں۔

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں مقدمات کی سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان نے ’’فیمی لیٹل ہائیر کولیسٹرو لیمیا‘‘ بیماری میں مبتلا بچوں کے از خود نوٹس کیس میں ڈریب کو اس بیماری کی دوائی رجسٹرڈ کرنے کا حکم دیدیا، عدالتی حکم پر کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر ایاز پیش ہوئے اور رپورٹ پیش کی اور بتایا کہ بیماری کے ٹیسٹ کی مشین تین ہفتوں میں پاکستان پہنچ جائے گی، جس پر فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ اس کا کریڈٹ وزیر صحت پنجاب کو جاتا ہے عدالت میں خاتون سحرش نے کہا کہ وہ اور اس کا بھائی ایسی بیماری میں مبتلا ہیں جس کا پاکستان میں علاج نہیں ہے، فاضل چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کا علاج پاکستان میں ہی ہو گا۔

عدالت نے مشین کی تنصیب دوائی کی رجسٹریشن اور دیگر اقدامات کی دو ہفتے میں رپورٹ طلب کر لی۔