مہمند ایجنسی، وفاقی حکومت قبائل کی سماجی و اقتصادی حالت بہتر بنانے کیلئے بھر پور کوشش کر رہی ہے،۔ ونگ کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل محمد سہیل اسلم

فاٹا کا خیبر پختونخوا کے ساتھ انضمام سے خطے میں انقلابی بہتری آئیگی،وفاقی حکومت نے جو فیصلہ کیا ہے اُن سے آئندہ نسلوں کی ترقی و خوشحالی کا دور شروع ہو جائیگا، افطار ڈنر سے خطاب

ہفتہ جون 22:13

مہمند ایجنسی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2018ء) وفاقی حکومت قبائل کی سماجی و اقتصادی حالت بہتر بنانے کیلئے بھر پور کوشش کر رہی ہے ۔ فاٹا کا خیبر پختونخوا کے ساتھ انضمام سے خطے میں انقلابی بہتری آئیگی ۔وفاقی حکومت نے جو فیصلہ کیا ہے اُن سے آئندہ نسلوں کی ترقی و خوشحالی کا دور شروع ہو جائیگا۔ مسلسل قربانیوں کے بعد یہاں کے نظام کو تبدیل کرنا احسن اقدام ہے۔

فاٹا کا صوبے میں ضم ہونے پرقبائلی عمائدین نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ پولیٹیکل ایجنٹ مہمند اور کمانڈنٹ مہمند رائفلز کا افطار ڈنر سے خطاب۔ جبکہ 22 بریگیڈ، 214 ونگ حد کور میں افطاری پروگرام کا انعقاد۔ ونگ کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل محمد سہیل اسلم کا قبائلی عمائدین سے خطاب۔ تفصیلات کے مطابق مہمند ایجنسی ہیڈ کوارٹر غلنئی میں پولیٹیکل انتظامیہ کی طرف سے افطار ڈنر کا اہتمام کیا گیا ۔

(جاری ہے)

افطار پارٹی میںپولیٹیکل ایجنٹ مہمند محمد واصف سعید، کمانڈنٹ مہمند رائفلز کرنل محمد عرفان علی و دیگر سرکاری حکام ، مقامی مشران ، علمائے کرام نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پولیٹیکل ایجنٹ مہمند محمد واصف سعید ، کمانڈنٹ کرنل محمد عرفان علی نے کہا کہ حکومت نے فاٹا انضمام کا جو فیصلہ کیا ہے اس سے قبائلی علاقہ جات ترقی و خوشحالی کے ایک نئے دور میں شامل ہو جائینگے۔

کیونکہ پاک فوج کے ساتھ ہر محاذ پر ساتھ دینے والے قبائلی عمائدین و جوانوں کی مسلسل قربانیوں کے بعد حکومت نے ان کی ترقی کا فیصلہ کیا ہے۔ انضمام پر قبائلی مشران کے جو اعتراضات ہیں وہ بھی حق بجانب ہے ۔ ہم قبائلی مشران کے ساتھ مشاورت کا یہ عمل اس وقت تک جاری رکھیں گے جب تک مشران مطمئین نہ ہو سکیں۔ کیونکہ مقامی مشران نے کشمیر ، بنگال، 1965 ء کے علاوہ روس اور امریکہ کو شکست دینے میں حکومت کے ساتھ بھر پور تعاون اور قربانی دیتے آرہے ہیں۔

سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ حکومت ان کے مستقبل کیلئے نقصان کا فیصلہ کریگا۔ بلکہ قبائل کی ترقی و خوشحالی کیلئے ضرور تبدیلی لائی جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ مقامی مشران کا انضمام کے حوالے سے جو تحفظات ہیں۔ انہیں جلد دور کئے جائینگے۔ جبکہ اس موقع پر قبائلی عمائدین نے فاٹا انضمام پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی عمائدین کی رائے کے بغیر فاٹا کا خیبر پختونخوا میں انضمام سے علاقے میں انتشار اور بد امنی کا باعث بنے گا۔

دریں اثناء 22 بریگیڈ کے انڈر کمان 214 ونگ سوات سکائوٹ نے تحصیل امبار حد کور میں افطار پارٹی کا اہتمام کیا جس میںسرکاری حکام ، فوجی آفیسرز اور مقامی مشران نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ ونگ کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل محمد سہیل اسلم نے قبائلی مشران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مہمند ایجنسی میں امبار اور دویزئی میںامن بحال ہوا ہے قبائلی عمائدین اپنے علاقوں میں دہشت گردوں کو قدم نہ جمانے دیں اور قیام امن میں قبائلی رہنماء اپنا کردار ادا کریں۔