چیف جسٹس نے سابق آئی ایس آئی سربراہ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی کیخلاف بھی ایکشن لے لیا

اصغر خان کے سلسلے میں انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی سمیت کیس سے متعلقہ آرمی افسران، ڈی جی نیب اور ڈی جی ایف آئی اے کو نوٹس جاری

muhammad ali محمد علی ہفتہ جون 20:40

چیف جسٹس نے سابق آئی ایس آئی سربراہ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی کیخلاف بھی ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2018ء) چیف جسٹس نے سابق آئی ایس آئی سربراہ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی کیخلاف بھی ایکشن لے لیا ہے۔ اصغر خان کے سلسلے میں انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی سمیت کیس سے متعلقہ آرمی افسران، ڈی جی نیب اور ڈی جی ایف آئی اے کو نوٹس جاری کر دیے گئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایئر مارشل ریٹائرڈ اصغر خان عملدرآمد کیس کی سماعت کے دوران پیسے وصول کرنے والے سابق وزیراعظم نواز شریف،، سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی اور عابدہ حسین سمیت21 سویلینز کو نوٹس جاری کردیئے۔

عدالت نے انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) اسد درانی سمیت کیس سے متعلقہ آرمی افسران، ڈی جی نیب اور ڈی جی ایف آئی اے کو بھی نوٹس جاری کر دیئے ۔

(جاری ہے)

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے خصوصی بینچ نے ہفتہ کو لاہور رجسٹری میں اصغر خان عملدرآمد کیس کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے وفاقی کابینہ کے فیصلے سے متعلق ایک سربمہر رپورٹ عدالت میں پیش کی اور ساتھ ہی درخواست کی کہ حساس نوعیت کا معاملہ ہونے کی بناء پر رپورٹ کو دوبارہ سیل کردیا جائے، جس پر عدالتی عملے نے رپورٹ کو سربمہر کردیا۔اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ کو آگاہ کیا کہ کابینہ نے عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کا فیصلہ کرتے ہوئے ایف آئی اے کو تفتیش جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔

اس موقع پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ پیسے وصول کرنے والوں سے رقم کی واپسی کا کیا طریقہ کار بنایا گیا ہی سماعت کے بعد عدالت نے نواز شریف،، عابدہ حسین، جاوید ہاشمی سمیت 21 سویلین، اسد درانی سمیت کیس سے متعلقہ آرمی افسران اور ڈی جی نیب اور ایف آئی اے کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت 6 جون تک ملتوی کردی۔