رمضان المبارک میں منہاج القرآن کے زیر اہتمام دروس عرفان القرآن کا سلسلہ جاری

جنگ بدر اسلام کے فلسفہ جہاد کا نکتہ آغاز ہی:علامہ رانا محمد ادریس قرآن حکیم نے غزوہ بدر کو ’’یوم الفرقان‘‘ کہا ہی:خطاب

ہفتہ جون 22:51

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2018ء) تحریک منہاج القرآن کے زیر اہتمام رمضان المبارک کی مقدس ساعتوں میں لاہور سمیت ملک بھر میں دروس عرفان القرآن کا سلسلہ جاری ہے،،لاہور میں منہاج القرآن علماء کونسل کے سکالرزسینکڑوں مقامات پر دروس عرفان القرآن دے رہے ہیں،قلوب و اذہان کو منور کرنے والے ان دروس میں مرد وخواتین،بچے بوڑھے بڑی تعداد میں شریک ہورہے ہیں،17رمضان المبارک یوم بدر کے موقع پر گلبرگ میں درس عرفان القرآن سے خطاب کرتے ہوئے علامہ رانا محمد ادریس نے کہا کہ17رمضان المبارک مقام بدر میں تاریخ اسلام کا عظیم اور یادگار دن ہے یہ وہ عظیم دن ہے جب اسلام اور کفر کے درمیان پہلی فیصلہ کن جنگ لڑی گئی، 17رمضان المبارک کو کفار کا گھمنڈ اور طاقت خاک میں مل گئی جبکہ اللہ کا نام لینے والوں کو ابدی طاقت اور فتح نصیب ہوئی،یوم بدر وہ عظیم دن ہے جس پر آج تک مسلمان فخر کرتے ہیں، علامہ رانا محمد ادریس نے کہا کہ جنگ بدر اسلام کے فلسفہ جہاد کا نکتہ آغاز ہے، یہ وہ اولین معرکہ ہے جس میں شہادت کے مرتبے پر فائض ہونیوالے جنت میں داخل ہونے میں بھی پہل کریں گے،قرآن حکیم کی آیات اور احادیث مبارکہ غزوہ بدر میں حصہ لینے والوں کی عظمت پر دلالت کرتی ہیں، غزوہ بدر کو 14سو سال گزر چکے ہیں لیکن اس کی یاد آج بھی مسلمانوں کے ایمان کو تازہ کر دیتی ہے،مقام بدر آج بھی کفارکی شکست اور مسلمانوں کی فتح اور کامرانی کی گواہی دیتا ہے،علامہ رانا محمد ادریس نے کہا کہ غزوہ بدر کو اسلامی تاریخ کو ایک خاص اور منفرد اہمیت حاصل ہے، اس معرکے کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس کے حیرت انگیز حالات اور نتائج نے آئندہ کے لیے ایک ایسا اسلوب متعین کیا جس پر اسلامی تاریخ کو ناز ہے اور ہمیشہ رہے گا، غزوہ بدر میں محسن انسانیت میں حضور اکرم ﷺ بنفس نفیس شرکت فرمائی،غزوہ بدر اسلام کا سب سے پہلا اور اہم ترین غزوہ ہے،انہوں نے کہا کہ غزوہ بدر سے پہلے پوری انسانی تاریخ میں کہیں یہ تصور موجود نہ تھا کہ جنگی قیدیوں کو رہا بھی کیا جاسکتا ہے۔

(جاری ہے)

قرآن حکیم نے اس جنگ کو ’’یوم الفرقان‘‘ کہا ہے،یعنی حق اور شر کے درمیان فرق کرنیوالا دن،اس عظیم جنگ سے کفار کے حوصلے پست،اسلام کی حقانیت واضح ہوئی۔مسلمان میدان بدر سے فاتح بن کر واپس آئے اور تاریخ عالم میں اسلامی جذبے،جنگی قیادت، حربی عوامل اور معجزانہ نتائج کا ایک ایسا باب رقم ہوا جو رہتی دنیا تک رہے گا، غزوہ بدرمیں کافروں کا پہاڑ جیسا لشکرمسلمانوں کے جذبہ ایمانی سے ریزہ ریزہ ہوگیا۔

انہوں نے کہا کہ جنگ بدر سے سبق ملتا ہے کہ جنگیں اقوام لڑا کرتی ہیں،مسلمان اگرچہ اس وقت انگلیوں پر گنے جاسکتے تھے لیکن وہ ایک قوم تھے۔مقام بدر میں لڑی جانیوالی فیصلہ کن جنگ نے ثابت کیا کہ مسلمان نہ صرف ایک قوم بلکہ دشمن کے ہر وار کو ناکام بنانے کی مکمل صلاحیت رکھتے تھے۔ماڈل ٹائون میں علامہ سید فرحت حسین شاہ،سبزہ زار میں علامہ غلام ربانی تیمور،کینٹ میں علامہ محمد لطیف مدنی،شاہدرہ میں علامہ محمد حسین آزاد نے دروس عرفان القرآن سے خطابات کئے۔