الیکشن 25 جولائی کی مقررہ تاریخ پر منعقد نہ ہوئے تو قوم انتشار کا شکار ہوگی،ملک سکندرخان ایڈوکیٹ

ہفتہ جون 22:51

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2018ء) جمعیت علماء اسلام کے صوبائی جنرل سیکرٹری ملک سکندرخان ایڈوکیٹ نے انتخابات کے بروقت انعقاد میں رکاوٹوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ الیکشن 25 جولائی کی مقررہ تاریخ پر منعقد نہ ہوئے تو قوم انتشار کا شکار ہوگی۔جس سے ناقابل تلافی نقصان ہونے کا خدشہ ہے۔ایم ایم اے کسی قسم کے غیر جمہوری اور غیر آئینی طرز عمل کو قبول نہیں کرے گی۔

انتخابات وقت پر ہونے چاہیں، کسی بھی بہانے سے تاخیری حربے برداشت نہیں کئے جائیں گے۔ پارلیمنٹ کے فیصلے قبول کئے جانے چاہیں۔ عدلیہ کے پاس آئین کی تشریح کا اختیار ہے۔ قانون سازی کا نہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی کی انتخابا ت میں تاخیر کی قرارداد،، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ کا خط اور کاغذات نامزدگی میں تبدیلی کا عدالتی فیصلہ انتخابی عمل کے بروقت انعقاد میں بہت بڑی رکاوٹ محسوس کئے جارہے ہیں۔

(جاری ہے)

الیکشن کمیشن انتخا بی شیڈول کا اعلان کرچکا ہے۔ تو اس کے بعد اس میں کسی قسم کی تبدیلی کے فیصلے اور تاخیری حربوں میںبظاہر بدنیتی نظر آرہی ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ عدالتی فیصلے قابل احترام مگر یہ سب قومی اسمبلی کی موجودگی میں ہونے چاہیں تھے۔ اسمبلی کی تحلیل کے بعد ان فیصلوں کا آنا جمہوری نظام اور آئندہ انتخابات کے بروقت انعقاد پر بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔

انہوں نے سیاسی جماعتوں سے اپیل کی ہے کہ انتخابات کے بروقت انعقاد کے معاملے میں ایک موقف اختیار کریں۔ ورنہ پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔انہوں نے کہا کہ متحدہ مجلس عمل کسی قسم کے غیر جمہوری اور غیر آئینی طرز عمل کو قبول نہیں کرے گی۔ انتخابات وقت پر ہونے چاہیں، کسی بھی بہانے سے تاخیری حربے برداشت نہیں کئے جائیں گے۔