نگراں وزیراعلیٰ فضل الرحمن متنازعہ شخصیت ہیں ان کو خود اس منصب پر نہیں آنا چاہیے تھا،شاہ محمد اویس نورانی

ہفتہ جون 22:54

حیدرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2018ء) متحدہ مجلس عمل کے مرکزی رہنماء اور جمعیت علماء پاکستان کے سیکریٹری جنرل شاہ محمد اویس نورانی نے کہا ہے کہ نگراں وزیراعلیٰ فضل الرحمن متنازعہ شخصیت ہیں ان کو خود اس منصب پر نہیں آنا چاہیے تھا، تحریک انصاف نے کے پی کے اور پنجاب میں نگراں وزراء اعلیٰ کے نام تجویز کرکے جس طرح واپس لئے ہیں اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان کا رویہ کتنا غیرسنجیدہ ہے، یہ ملک تجربات کے لئے نہیں بنا اس کو آگے بڑھنا ہے۔

وہ لطیف آباد نمبر 6 میں جماعت اسلامی کے زیراہتمام یوم بدر کی تقریب کے بعد "این این آئی" کے سوالات کے جوابات دے رہے تھے، اس موقع پر جماعت اسلامی کے صوبائی امیر ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی اور دیگر رہنماء بھی موجود تھے۔

(جاری ہے)

نگراں وزیراعلیٰ سابق چیف سیکریٹری سندھ فضل الرحمن کے بارے میں ایک سوال پر شاہ محمد اویس نورانی نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ انہیں اس منصب پر نہیں آنا چاہیے تھا وہ جانبدار آدمی ہیں اور آصف زرداری کے لاڈلے ہیں وہ غیرجانبدار نہیں ہو سکتے، انہوں نے کہا کہ سندھ میں جب بھی پیپلزپارٹی کی حکومت کے بعد نگران سیٹ اپ بنا ہے تو یہ ممکن نہیں ہوتا کہ اس میں غیرجانبدار شخصیات شامل ہوں اور انتخابات غیرجانبدارانہ اور منصفانہ ہو سکیں، کے پی کے اور پنجاب میں نگراں وزیراعلیٰ کے لئے تحریک انصاف کی طرف سے نام تجویز کرنے کے بعد واپس لینے کے حوالے سے سوال پر شاہ محمد اویس نورانی نے کہا کہ اس سے اندازہ لگائیے کہ کتنا نان سیریس رویہ ہے، کیا قومی فیصلے اس طرح ہوتے ہیں، اگر ہم ملک کو کسی چائلڈ اسپیشلسٹ کے حوالے کر دیں گے تو کیا بنے گا، انہوں نے کہا کہ یہ ملک تجربات کے لئے نہیں بنا اس کو آگے بڑھنا ہے اور ترقی کرنی ہے۔