نگراں وزیرا علیٰ کی نامزدگی کے معاملے پرپارلیمانی کمیٹی کا اجلاس بےنتیجہ ختم

خیبر پختونخوا کے نگراں وزیراعلیٰ کا معاملہ الیکشن کمیشن کو بھیجنے پراتفاق کر لیا گیا

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس ہفتہ جون 22:27

نگراں وزیرا علیٰ کی نامزدگی  کے معاملے پرپارلیمانی کمیٹی کا اجلاس بےنتیجہ ..
پشاور (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار-02 جون 2018ء ) :نگراں وزیرا علیٰ کی نامزدگی کے معاملے پرپارلیمانی کمیٹی کا اجلاس بےنتیجہ ختم ہو چکا ہے۔ خیبر پختونخوا کے نگراں وزیراعلیٰ کا معاملہ الیکشن کمیشن کو بھیجنے پراتفاق کر لیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق خیبر پختونخواہ میں صوبائی حکومت کو ختم ہوئے آج پانچوں دن ہے لیکن اس کے باوجود ابھی تک خیبر پختونخوا میں نگران وزیر اعلیٰ کا معاملہ طے نہیں ہو سکا ہے۔

نگراں وزیراعلیٰ خیبر پختونخواکےمعاملے پراپوزیشن اور حکومت ناکام ہو گئے تھے ۔وزیراعلیٰ کی نامزدگی کامعاملہ پارلیمانی کمیٹی میں چلاگیا تھا۔حکومت کی جانب سے نگراں وزیراعلیٰ کیلیےاعجازاحمدقریشی اورحمایت اللہ کےنام پراصرار جاری رہا۔دوسری جانب اپوزیشن لیڈرمنظورآفریدی اورجسٹس ریٹائرڈدوست محمدخان کےنام پرڈٹےرہے۔

(جاری ہے)

تا ہم تازہ ترین خبر کے مطابق نگراں وزیرا علیٰ کی نامزدگی کے معاملے پرپارلیمانی کمیٹی کا اجلاس بےنتیجہ ختم ہو چکا ہے۔

خیبر پختونخوا کے نگراں وزیراعلیٰ کا معاملہ الیکشن کمیشن کو بھیجنے پراتفاق کر لیا گیا۔۔یاد رہے کہ 5دن قبل حکومت اور اپوزیشن میں منظور آفریدی کے نام پر اتفاق ہو گیا تھا لیکن خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کی طرف سے نگران وزیراعلیٰ کےلیے ایک غیر معروف صنعت کار منظور آفریدی کا نام تجویز کرنے کی اطلاعات پر اپوزیشن جماعتوں اور سوشل میڈیا پر عوام کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا تھا جس کے بعد اب منظور آفریدی کا نام واپس لے لیا گیا تھا اور نگران وزیر اعلیٰ کے لیے دیگر ناموں پر غور کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا تاہم اس کے بعد اس معاملے پر حکومت اور اپوزیشن میں ڈیڈلاک آگیا اور حکومت اپنے آخری دن تک نگران وزیر اعلیٰ کا فیصلہ نہ کر سکی۔

واضح رہے کہ منظور آفریدی سینیٹ انتخابات سے قبل پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہونے والے ایوب آفریدی کے بھائی ہیں جو بعد میں خیبر پختونخوا سے پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر سینیٹر منتخب ہوئے۔ منظور آفریدی پاکستان سپر لیگ کی ٹیم پشاور زلمی کے مالک جاوید آفریدی کے چچا زاد بھائی بھی ہیں جبکہ ان کے ایک چچا مسلم لیگ (ن) سے بھی منسلک رہے ہیں۔