ایمانداری بہت بڑی خوبی ہے مگر بد قسمتی سے ہمارے ہاں اس کا فقدان ہے،چیف چسٹس آف پاکستان کا گیریژن یونیورسٹی میں وائٹ کالر کرائم سے متعلق منعقدہ سیمینار سے خطاب

ہفتہ جون 23:07

ایمانداری بہت بڑی خوبی ہے مگر بد قسمتی سے ہمارے ہاں اس کا فقدان ہے،چیف ..
لاہور۔2 جون(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2018ء) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ ہم ایمانداری کے ساتھ اپنے قومی مقصد حاصل کئے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتے۔ایمانداری کے بغیر کوئی معاشرہ اور ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ایمانداری بہت بڑی خوبی ہے مگر بد قسمتی سے ہمارے ہاں اس کا فقدان ہے۔گیریژن یونیورسٹی میں وائٹ کالر کرائم سے متعلق منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمارا دین بھی یہی کہتا ہے کہ علم حاصل کرو چاہے تم کو چین جانا پڑاے۔

اسی لئے تعلیم کو معاشرے کی ترقع کیلئے انتہائی اہمیت کی حامل قرار دیا گیا ہے۔ہم اس میدان میں دنیا سے پیچھے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ پہلے بھی چین گئے مگر حالیہ دورے میں ترقی دیکھ کر حیران رہ گئے۔ہم دید ٹیکنالوجی کے استعمال میں دنیا سے بہت پیچھے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ وائت کالر کرائم کا دائرہ اب بہت وسیع ہو گیا ہے۔دیگر ملکوں کے برعکس ہم کمپیوٹر ٹیکنالوجی کو صرف ٹائپسٹ کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت نظام عدل میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی بہت ضروت اور گنجائش ہے۔اس وقت ضلعی عدلیہ میں ایک مقدمہ دیکھنے کیلئے جج کے پاس صرف تین منٹ ہیں۔اتنے کم وقت میں مقدمہ نہیں دیکھا جا سکتا۔ہمارے ہاں وکیل کو بھی وقت دیا جاتا ہے۔۔امریکہ میں ایک وکیل کو آدھے گھنٹے سے زیادہ وقت نہیں دیا جاتا۔اس وقت نظام عدل میں ڈسٹرکٹ اور سول جج انصاف کی فراہمی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

ہمیں کم از کم الفاظ استعمال کر کے زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ہم نظام عدل میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے وقت بچا سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وائٹ کالر کرائم سے متعلق قوانین کو اپ ڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ججز کو کچھ سیکھنے کیلئے جہاں بھی جانا پڑے وہ جائیں۔انہوں نے کہا کہ وائٹ کالر کرائم تمام جرائم کی جڑ ہے۔اس سے نمٹنے کیلئے متعدد قانونی اصلاحات کی ضرورت ہے۔۔چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس یاور علی نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس وقت ملک میں کرپشن اور منی لانڈرنگ عروج پر ہیں۔اس طرح کے سیمینارز اور ورکشاپ وائٹ کال کرائم سے متعلق آگاہی اور اس کے قوانین میں اصلاحات کیلئے مفید ثابت ہوں گے۔تقریب میں دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔