بلوچستان کی پسماندگی کے ذمہ دار مقامی سردارہیں:یار محمد رند

بلوچستان میں اس وقت اگر کسی قومی لیڈر کیلئے چاہت پائی جاتی ہے وہ عمران خان ہے۔سابق وفاقی وزیر یار محمد رند کی نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو

ہفتہ جون 23:43

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2018ء) تحریک انصاف کے رہنما اورسابق وفاقی وزیر یار محمد رند نے کہا ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ 1958سے شروع ہوا جب قلات کو پاکستان میں ضم کرلیا گیا اس کے بعد بلوچستان میں 5مرتبہ شورشیں ہوئیں لیکن مسئلے کو نہیں سمجھا گیا ، بلوچستان کے مسائل پر کوئی توجہ نہیں دی گئی اور نہ ہی ان کوحل کرنے کی کوشش کی گئی۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے یار محمد رند نے کہا کہ بلوچوں کے ساتھ مذاکرات کرنے کی بجائے طاقت کے استعمال کوترجیح دی گئی ، اس پر سب سے زیادہ ذمہ داری سرداروں کی تھی جوبلوچستان کو ترقی نہ دے سکے ، وہ ہر حکومت کاحصہ رہے لیکن بلوچستان کے مسائل حل کرنا تو کجا اپنے اپنے ضلع کی حالت بھی نہ سنوار سکے ،انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں وزرائے اعلیٰ رہنے والے سردار جب حکومت میں ہوتے ہیں اس وقت وہ مستفید بھی ہوتے ہیں اور وفاقی حکومت کی حمایت بھی کرتے ہیں لیکن جب یہ حکومت میں نہیں ہوتے اس وقت قوم پرستی کی سیاست شروع کر دیتے ہیں۔

(جاری ہے)

حاصل بزنجوصاحب بتائیں کہ انہوں نے بلوچستان کے لئے کیا کیا۔انہوں نے کہا جب تک ہم صوبے کی سیاست کریں گے اس وقت تک ہم بلوچ عوام کیلئے کچھ نہیں کر سکتے۔ نواز شریف بلوچستان ایسے آتے تھے جیسے کو ئی غیرملکی سربراہ دورہ کرتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کچھی کینال 9لاکھ ایکٹر زمین کو سیراب کرنے کے لئے بنائی گئی۔ اس میں صرف تین دن پانی چلا لیکن اس کے بعد یہ بیٹھ گئی اور اب سے ایک ایکٹر بھی سیراب نہیں ہور ہا۔انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں اس وقت اگر کسی قومی لیڈر کیلئے چاہت پائی جاتی ہے وہ عمران خان ہے۔