فیس بک نے اپنے فیچرز میں ایک اور شاندار اضافہ کرنے کا اعلان

فیس بُک نے ’بریکنگ نیوز‘ سیکشن متعارف کرانے کا فیصلہ کر لیا

Syed Fakhir Abbas سید فاخر عباس ہفتہ جون 23:44

فیس بک نے اپنے فیچرز میں ایک اور شاندار اضافہ کرنے کا اعلان
کیلی فورنیا (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار- 02 جون 2018ء) ::فیس بک نے اپنے فیچرز میں ایک اور شاندار اضافہ کرنے کا اعلان کر دیا۔۔فیس بک حکام کے مطابق فیس بک نے ’بریکنگ نیوز‘ سیکشن متعارف کرانے کا فیصلہ کر لیا۔تفصیلات کے مطابق فیس بک کو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کی چند بہترین سوشل ویب سائٹس میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ نہ صرف دوستوں کو آپسی رابطے بڑھانے میں مدد دیتی ہے بلکہ کمرشل بنیادوں پر بھی مفید ثابت ہوتی ہے۔

اگرچہ گزشتہ دنوں اٹھنے والے سکینڈل نے فیس بک کی ساکھ کو خاصا متاثر کیا تھا۔ فیس بک نے صارفین کا ذاتی ڈیٹا کاروباری مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے سکینڈل کے باوجود فیس بک اپنی ساکھ بحال کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے اور تاحال اپنی مقبولیت بنائے ہوئے ہے۔۔فیس بک انتظامیہ ایپ کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ رکھنے کے لیے نت نئی تبدیلیاں کرتی رہتی ہے۔

(جاری ہے)

ان تبدیلیوں کو عموما صارفین کی جانب سے بہت پسند بھی کیا جاتا ہے۔گزشتہ دنوں فیس بک انتظامیہ ایک نیا فیچر ’’ واٹس ایپ پر بھیجیں ‘‘ متعارف کرانے کا اعلان کیا تھا جس کی مدد سے فیس بک صارفین اپنے پسندیدہ مواد کو واٹس ایپ پر صرف ایک کلک کے ذریعے شیئر کر سکیں گے۔ اس فیچر کی مدد سے ویڈیوز، تصاویر اور تحریریں شیئر کی جا سکیں گی۔اس فیچر کے متعارف کرائے جانے کے بعد صارفین کسی بھی پوسٹ پر جا کر شیئر پر کلک کریں گے تو 3 آپشنز سامنے آتے ہیں جیسے ہی صارف ’’ واٹس ایپ پر بھیجیں ‘‘ آپشن کا انتخاب کریں گے تو ایک لنک سامنے آجاتا ہے جسے واٹس ایپ پر بھیجا جا سکتا ہے۔

تازہ ترین خبر کے مطابق فیس بک نے اپنے فیچرز میں ایک اور شاندار اضافہ کرنے کا اعلان کر دیا۔۔فیس بک حکام کے مطابق فیس بک نے ’بریکنگ نیوز‘ سیکشن متعارف کرانے کا فیصلہ کر لیا۔۔ٹیکنالوجی ویب سائٹ میش ایبل کی رپورٹ کے مطابق فیس بک میں ٹرینڈنگ نیوز سیکشن کو ختم کر کے ’ بریکنگ نیوز ‘ سیکشن متعارف کیا جائے گا جس میں سب سے پہلے مقامی خبروں کو ترجیح دی جائے گی۔ اس کے لیے ’ٹوڈے اِن‘ فیچر کو بھی متعارف کیا جائے گا تاکہ تمام شہری اپنے ارد گرد کے حالات سے باخبر رہیں اور بریکنگ نیوز سے باخبر رہیں۔ 'ٹوڈے اِن' فیچر کی مدد سے صارفین مقامی تنظیموں کی اَپ ڈیٹس بھی معلوم کر سکیں گے۔اس فیچر میں صرف تصدیق شدہ خبریں ہوں گی جسے دنیا بھر کے صارفین استعمال کر سکیں گے۔