چیف جسٹس پاکستان کے حکم پر عائشہ احد کی درخواست پر نامزد حمزہ شہباز سمیت 6افراد مقدمہ درج

مقدمے کے اندراج سے قبل سی سی پی او کی زیر صدارت اجلاس ، مقدمہ تشدد ،ہراساں کرنے سمیت دیگر دفعات کے تحت درج کیا گیا تھانہ اسلامپورہ میں نامزد ملزمان حمزہ شہباز ،ذوالفقار چیمہ ،انسپکٹر عتیق ڈوگر ،سابق آئی جی رانا مقبول اورعمران یوسف کیخلاف 664/18نمبر ایف آئی آر 354،342،382،506،337،511،149،148،337دفعات کے تحت درج کی گئی چیف جسٹس نے آئی جی کی مقدمے کے اندراج کیلئے مہلت کی استدعا مسترد کرتے ہوئے رات بار ہ بجے تک مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھا

اتوار جون 03:39

چیف جسٹس پاکستان کے حکم پر عائشہ احد کی درخواست پر نامزد حمزہ شہباز ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔3جون۔2018ء) چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کے حکم پر عائشہ احد ملک کی درخواست پر نامز وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کے صاحبزادے حمزہ شہباز سمیت 6افراد کے خلاف مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ، چیف جسٹس نے آئی جی پنجاب کی جانب سے مقدمے کے اندراج کیلئے مہلت کی استدعا مسترد کرتے ہوئے رات بار ہ بجے تک مقدمہ درج کرنے کے احکامات جاری کئے تھے ۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں سماعت کے دوران انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب کو مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما سابق رکن قومی اسمبلی حمزہ شہباز کی اہلیہ ہونے کی دعویدار عائشہ احد ملک کو تحفظ فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے درخواست میں نامزد ملزمان کے خلاف فوری مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھا ۔

(جاری ہے)

سماعت کے دوران عائشہ احد نے عدالت میں موقف اپنایا کہ مجھے اور میری بیٹی کو سابق رکن قومی اسمبلی حمزہ شہباز سے جان کا خطرہ ہے لہٰذا ہمیں تحفظ فراہم کیا جائے۔

اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ کسی کی جان خطرے میں نہیں دیکھ سکتے۔۔چیف جسٹس نے حمزہ شہباز کو دوپہر ایک بجے عدالت طلب کیا تھا تاہم ایڈووکیٹ جنرل پنجاب عاصمہ حامد نے عدالت کو بتایا کہ حمزہ شہباز بیرون ملک ہیں اور 3 سے 4 روز میں پاکستان آجائیں گے۔۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے عائشہ احد پر تشدد کے حوالے سے عدالتی فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے ان کے کیس کا ریکارڈ 6جون تک عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

عائشہ احد کے موقف کے بعد چیف جسٹس کی جانب سے حکم دیا گیا کہ درخواست میں نامزد ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے اور عدالت کو آگاہ کیا جائے کہ آج تک مقدمہ درج نہ کرنے والے پولیس اہلکاروں میں کون کون شامل ہے۔بعد ازاں عدالت نے آئندہ سماعت پر حمزہ شہباز کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا۔رات نو بجے کے قریب چیف جسٹس نے دوبارہ سپریم کورٹ لاہور رجسٹری آ کر سماعت کی اور آئی جی پنجاب سے مقدمے کے اندراج سے متعلق استفسار کیا ۔

آئی جی پنجاب نے بتایا کہ اندراج مقدمے کیلئے قانونی تقاضے پورے کر رہے ہیں مہلت دی جائے ۔ چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ سے یہ امید نہیں تھی ، اگر احکامات پر عملدرآمد نہیں کرنا تو رخصت پر چلے جائیں ۔ چیف جسٹس نے آئی جی پنجاب کی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے رات بارہ بجے تک مقدمہ درج کر کے عملدرآمد رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی تھی ۔

رات گئے سی سی پی کیپٹن (ر) امین وینس، ایس پی لیگل سمیت دیگر اعلیٰ افسران کا اجلاس ہوا جس میں سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق مقدمہ درج کرنے کا جائزہ لیا گیا ۔ سی سی پی او کے مطابق تھانہ اسلامپورہ میں نامزد ملزمان حمزہ شہباز ،ذوالفقار چیمہ ،انسپکٹر عتیق ڈوگر ،سابق آئی جی رانا مقبول اورعمران یوسف کے خلاف 664/18نمبر ایف آئی آر354،342،382،506،337،511،149،148،337دفعات کے تحت درج کی گئی ہے ۔ ایف آئی آر میں عائشہ احد ملک کی 2011ء میں دی گئی درخواست کو بھی حصہ بنایا گیا ہے ۔ ایک نجی ٹی وی کے مطابق حمزہ شہباز کے خلاف معاونت کے جرم میں مقدمہ درج کیا گیا ہے ۔