اسرائیلی فوج کی نئی سٹریٹجی، عرب ممالک سے تعلقات ترجیح

اتوار جون 10:20

مقبوضہ بیت المقدس ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 جون2018ء) اسرائیلی فوج نے 2015ء کی عسکری حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے 2018ء کی نئی سٹریٹجی کا اعلان کیا ہے۔ نئی حکمت عملی میں عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کو اہمیت اور ترجیح دی گئی ہے۔عبرانی نیوز ویب سائٹ ’واللا‘ نے ایک رپورٹ میں بتایا کہ فوج نے تیزی کے ساتھ تبدیل ہوتے حالات کے تناظر میں نئی سٹریٹیجی کا اعلان کیا ہے۔

نئی حکمت عملی میں فوج نے خطے کے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے ساتھ ریرزو فوج کی تعداد میں اضافے پر توجہ مرکوز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کو خطے میں پہلے کی نسبت کئی نئے چیلنجز درپیش ہیں۔ اسرائیل اپنے پڑوسی عرب ممالک کے ساتھ کشیدگی کم کرنے اور نئے اتحاد تشکیل دینے کے ساتھ مسلمان عرب ریاستوں کے ساتھ تعلقات کے فروغ کو زیادہ اہمیت دے رہا ہے۔

(جاری ہے)

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عرب ممالک کے ساتھ سکیورٹی کے شعبے میں ہم آہنگی خطے میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کی روک تھام میں معاون ثابت ہوگی اور اس کا فائدہ عرب ممالک کو بھی ہوگا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فوج کی جانب سے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کو ترجیح دینے کی بات ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب حالیہ مہینوں میں ذرائع ابلاغ میں خلیجی عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان کئی شعبوں میں غیراعلانیہ تعاون کی خبریں آتی رہی ہیں۔

متعلقہ عنوان :