پانی پاکستان کے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکا ہے۔ گزشتہ 70سال میں ملک میں پانی کی فی کس دستیابی5 ہزار مکعب فٹ سے کم ہو کر 9 سو مکعب فٹ رہ گئی ہے، ملک سہیل

اتوار جون 11:20

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 جون2018ء) وفاق ایوانہائے صنعت و تجارت پاکستان((ایف پی سی سی آئی) کے چئیرمین کو آرڈینیشن ملک سہیل حسین نے کہا ہے کہ پانی پاکستان کے لئے زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکا ہے۔ گزشتہ 70سال میں ملک میں پانی کی فی کس دستیابی5 ہزار مکعب فٹ سے کم ہو کر 9 سو مکعب فٹ رہ گئی ہے جس میں تیزی سے کمی آ رہی ہے ۔ملک سہیل حسین نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ امسال برف باری میں50 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس سے خریف کی فصل کیلئے پانی کی دستیابی میں 60 فیصد کمی واقع ہوئی ہے جو کروڑوں کاشتکاروں اور عوام کیلئے ایک خطرہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ خطے میں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے گرمی کے موسم کا دورانیہ بھی بڑھ رہا ہے اور عالمی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ پاکستان پانی کے خطرناک بحران کی جانب بڑھ رہا ہے۔

(جاری ہے)

آئی ایم ایف کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں قلت آب کے شکار ملکوں میں پاکستان تیسرے نمبر پر پہنچ چکا ہے جس کی اوجہ پانی کی ذخیرہ نہ کرنا اور اس کا نامناسب استعمال ہے۔

ماہرین کے مطابق آئندہ بیس سال میں 40فی صد لوگوں کو پانی دستیاب نہ ہو گا جس سے ملک خانہ جنگی کا شکار ہو جائے گا۔یہ بات گزشتہ دس سال سے دہرائی جا رہی ہے کہ اب اگر کسی مسئلہ پر عالمی جنگ چھڑی تو وہ پانی کا مسئلہ ہو گا مگر حیرت ہے کہ قلت آب جیسا سنگین معاملہ ابھی تک سیاستدانون کی توجہ حاصل نہیں کر سکا ہے۔انہوں نے مزید نے کہا کہ اس جانب فوری توجہ نہ دی گئی تو ملک کی آبادی کا بہت بڑا حصہ پانی نہ ملنے کے باعث جانی ومالی نقصانات سے دوچار ہوسکتا ہے۔

بھارت نے پاکستان پر آبی جارحیت مسلط کرتے ہوئے دریاوں کا پانی روک لیا ہے جس کا حل نکالا جائے ورنہ پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ خشک ملک بن جائے گا۔ملک سہیل کے مطابق شمالی علاقہ جات، خیبر پختونخوا، بلوچستان،، آزاد کشمیر اور شمالی پنجاب میں ایسے ہزاروں قدرتی مقامات ہیں جنہیں ڈیموں میں تبدیل کر کے مون سون کی بارشوں کا پانی سال بھر کے لئے ذخیرہ کیا جا سکتا ہے۔