اردن میں نئے ٹیکسوں کے خلاف تیسرے روز بھی مظاہرے ،حکومت بھی ڈٹ گئی

مظاہرین کی وزیراعظم سیکرٹیریٹ کی طرف بڑھنے کی کوشش،پولیس نے روک دیا،حکام کی پرامن رہنے کی اپیل

اتوار جون 13:00

عمان(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 جون2018ء) اردن میں حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر عوام میں پائے جانے والے غم وغصے میں کمی نہیں آسکی اور تیسرے روز بھی ملک میں مہنگائی اور متنازع ٹیکس عاید کیے جانے پر حکومت کے خلاف مظاہرے جاری رہے۔عرب ٹی وی کے مطابق دارالحکومت سمیت ملک کے کئی شہروں میں حکومت کے خلاف بڑے بڑے جلوس نکالے گئے۔

شہریوں نے کئی مقامات پر رکاوٹیں کھڑی کرکے سڑکیں بلاک کردیں۔ دارالحکومت عمان میں مظاہرین نے وزیراعظم سیکرٹیریٹ کی طرف بڑھنے کی کوشش کی تاہم پولیس نے انہیں روک دیا۔

(جاری ہے)

ادھر پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے مظاہرین سے پرامن رہنے اور تحمل کا مظاہر کرنے کی اپیل کی ہے۔ دوسری طرف مظاہرین کا کہناتھا کہ وہ پہلے ہی پرامن ہیں اور اپنے جائز حقوق کے حصول کے لیے قانون کیدائرے میں رہ کر احتجاج کررہے ہیں۔

اردن میں مظاہرے اس وقت دوبارہ شروع ہوئے جب وزیراعظم ھانی المقلی نے آئی ایم ایف کے مطالبے پر پٹرولیم مصنوعات پر نیاٹیکس لگانے کے فیصلے میں کوئی تبدیلی نہ کرنے کا اعلان کیا۔ وزیراعظم نے پارلیمنٹ سے خطاب میں کہا کہ وہ پٹرولیم مصنوعات اور دیگر اشیا پر لگایا گیا ٹیکس واپس نہیں کریں گے۔ اس پر کئی شہروں میں لوگ احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔