امریکامیں غیر قانونی مہاجرین کو بچوں سے جداکرنے کی پالیسی پر ملک بھر میں مظاہرے

ٹرمپ انتظامیہ سیاسی مقاصدکے لیے بچوں کو خوف زدہ کررہی ہے،مظاہرین محکمہ انصاف کے باہر سراپااحتجاج

اتوار جون 13:00

واشنگٹن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 جون2018ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی طرف سے وسطی امریکی مہاجرین کو ان کے بچوں سے جدا کرنے کی متنازعہ پالیسی کے خلاف انسانی حقوق کے لیے سرگرم کئی اداروں نے امریکا کے متعدد شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے۔میڈیارپورٹس کے مطابق دارالحکومت واشنگٹن میں محکمہ انصاف کی عمارت کے باہر سراپا احتجاج مظاہرین خاندان اکٹھا رہتا ہے کے نعرے لگاتے رہے۔

یہ مظاہرین حکومت پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور سیاسی مقاصد کے لیے بچوں کو خوف زدہ و غمزدہ کرنے کے الزامات عائد کرتے دکھائی دیے۔ مہاجرین کو مشاورت فراہم کرنے والے ایک گروپ کی اس احتجاج میں شریک سربراہ جیسیکا مورالس نے اس موقع پر کہاکہ واقعی یہ ایک ہنگامی صورتحال ہے۔

(جاری ہے)

ہر دن بچوں کو ان کے والدین سے چھینا جا رہا ہے اور صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کو یہ پالیسی فوری طور پر ترک کرنا ہو گی۔

ہ ملک گیر مظاہرے امریکی انتظامیہ کی جانب سے اس امر کی تصدیق کے بعد نکالے گئے کہ پچھلے سال اکتوبر کے بعد سے امیگریشن دستاویزات کے بغیر جنوبی سرحد عبور کرنے والے سینکڑوں مہاجرین کو ان کے بچوں سے جدا کر دیا گیا۔ اٹارنی جنرل جیف سیشنز نے پچھلے ماہ اس سلسلے میں باقاعدہ پالیسی کا اعلان بھی کیا۔ اس پالیسی کے تحت غیر قانونی طور پر سرحد عبور کرنے والے تمام مہاجرین کو گرفتار کر کے انہیں ان کے بچوں سے علیحدہ کر دیا جائے گا۔ واشنگٹن حکومت اس اقدام کو ملک میں غیر قانونی ہجرت کے انسداد کے لیے ناگزیر قرار دیتی ہے تاہم اس پالیسی کے ناقدین اسے ظالمانہ قرار دیتے ہیں۔