پیپلزپارٹی آزادکشمیر میں تنظیم سازی کے دوران نظریاتی کارکنوں کو نظر اندازکرنا شروع کردیا

دارالحکومت مظفرآباد سمیت دیگر علاقوں میں نظریاتی کارکنوں کی نظراندازی پر پیپلزپارٹی دو دھڑوں میں تقسیم

اتوار جون 13:00

مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 جون2018ء) پیپلزپارٹی آزادکشمیر میں تنظیم سازی کے دوران نظریاتی کارکنوں کو نظر اندازکرنا شروع کردیا ،ْ مرکزی اور ضلعی تنظیم سازی میں عہدے اپنے اپنے گھروں میں تقسیم ! کوئی پوچھنے والانہیں دارلحکومت مظفرآباد سمیت دیگر علاقوں میں نظریاتی کارکنوں کی نظراندازی پر پیپلزپارٹی دو دھڑوں میں تقسیم ، آئندہ الیکشن میں شدید نقصا ن کا امکان ! چیئرمین بلاول بھٹو فوری طور پر نوٹس لیں ، نظریاتی کارکنوں کا مطالبہ۔

تفصیلات کے مطابق پیپلزپارٹی آزادکشمیرمیں الیکشن 2016ء میں ہارنے والوں کو مرکزی اعلیٰ عہدے دینے کے علاوہ اختیارات دینے کے بعد آزادکشمیر بھر سمیت مظفرآباد میں تنظیم سازی کے دوران ایک بار پھر پیپلزپارٹی نے نظریاتی کارکنوں کو نظرانداز کرنے اور من پسند افراد جنہوں نے ماضی میں زکوٰة کے کروڑوں روپے ہڑپ کئے جو پارٹی کیلئے باعث بدنامی کا سبب بنے ، جو2016ء میں پیپلزپارٹی کی شکست کی وجہ بنے،جبکہ نہ تو مرکزی قیادت نے نوٹس لیا نہ ہی آزادکشمیر کی اعلیٰ قیادت نے نوٹس لیا جس کی وجہ سے ایک بار پھر تنظیم سازی میں نظریاتی کارکنوں کو نظر انداز کرکے من پسند افراد کو تنظیم سازی میں شامل کرلیا جس کے باعث دارلحکومت مظفرآباد کے مختلف علاقوں کے رہنے والے پیپلزپارٹی کے نظریاتی کارکنوں نے باقاعدہ بغاوت کا اعلان کرتے ہوئے پیپلزپارٹی نظریاتی گروپ کا اعلان کردیا ۔

(جاری ہے)

اُنہوں نے چیئرمین بلاول بھٹو سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آزادکشمیر میں ہونے والی تنظیم سازی کا نوٹس لیتے ہوئے فوری طور پر ہونے والی تنظیم سازی توڑ کر نظریاتی کارکنوں کو تنظیم میں شامل کرنے کے احکامات جاری کریں ، بصورت دیگر آئندہ الیکشن میں پیپلزپارٹی آزادکشمیر کو ایک مرتبہ پھر بھاری نقصان سے دوچار ہونا پڑے گا ۔