شہباز شریف دوپہر 2 بجے سپریم کورٹ پیش ہوں گے

عدالت نے وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف کو 56 کمپنیوں میں مبینہ کرپشن سے متعلق فوری طلب کیا تھا

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان اتوار جون 13:21

شہباز شریف دوپہر 2 بجے سپریم کورٹ پیش ہوں گے
لاہور(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 03جون 2018ء) عدالت نے وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف کو فوری طلب کیا تھا۔جس کے بعد شہباز شریف نے بھی عدالت میں فوری طور پر پیش ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ کی جانب سے 56 کمپنیوں میں مبینہ کرپشن کیس میںوزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کو طلب کیا گیا تھا۔۔شہباز شریف نے دوپہر 2 بجے سپریم کورٹ پیش ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔

شہباز شریف سے چیف سیکرٹری نے رابطہ کیا ہے اور انہیں 56 کمپنیوں سے متعلق معاملات پر بریفنگ دی۔۔سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں 56 کمپنیوں میں مبینہ کرپشن سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت ہوئی،دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان نے وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کو طلب کرلیا۔ چیف جسٹس میںاں ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ شہبازشریف خود پیش ہوکروضاحت کریں سرکاری افسران کوبھاری تنخواہوں پرکیسےبھرتی کیا گیا۔

(جاری ہے)

،ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کا عدالت میں جواب دیتے ہوئے کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کاکمپنیوں میں براہ راست کردار نہیں تھا۔جس کے بعد چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دئیے کہ ان کےکردار کے بغیر تو یہاں مکھی بھی نہیں اڑتی۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ پوچھیں اپنےوزیراعلیٰ سےکہ وہ کہاں ہیں اورکس وقت عدالت پیش ہوں گے۔۔۔عدالت نے نیب کو 6 کمپنیوں کے سی ای اوز کی جائیداد کا تخمینہ لگانے کا حکم دے دیا۔

یاد رہے کہ اس سے پہلے شہباز شریف کو عدالت میں صاف پانی کیس میں بھی طلب کیا گیا تھا۔صاف پانی کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف کو عدالت میں طلب کیا۔صاف پانی کیس کی سماعت کے دورانچیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا کہ لاہور پنجاب کا دل ہے اور اس میں کیا پھینکا جا رہا ہے۔

جب لاہور کا یہ حال ہے تو باقی شہروں کا کیا حال ہو گا۔۔۔عدالت نے صاف پانی کیس میں پنجاب حکومت کی طرف سے پیش کی گئی رپورٹ پر عدم اطمنان کا اظہارکیا ہے اور کہا ہے کہ بتایا جائے کہ وزیر اعلی کب عدالت میں پیش ہو سکتے ہیں۔جب اآلودگی کے معاملے پر وزیر اعلی سندھ کو طلب کر سکتے ہیں تووزیر اعلی پنجاب کو کیوں نہیں کر سکتے۔۔۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ وزیر اعلی پنجاب عدالت میں پیش ہو کر بتائیں کہ گندے پانی کی نکاسی کے لئے کیا اقدامات کئے جا رہے ہیں۔