بھاری فیسیں وصول کرنے کے باوجود نجی تعلیمی ادارے اپنے ملازمین کا معاشی استحصال کرنے میں مصروف عمل

گورنمنٹ کے مقررہ کردہ سکیلوں کے مطابق تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور تہواروں پر کسی قسم کا بونس نہ دینا اِن کا وطیرہ بن چکاہے

اتوار جون 13:30

اوکاڑہ کینٹ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 جون2018ء) بھاری فیسیں وصول کرنے کے باوجود نجی تعلیمی ادارے اپنے ملازمین کا معاشی استحصال کرنے میں مصروف عمل ، گورنمنٹ کے مقررہ کردہ سکیلوں کے مطابق تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور تہواروں پر کسی قسم کا بونس نہ دینا اِن کا وطیرہ بن چکاہے ۔بعض ادارے ملازمین کو بینک اکاؤنٹ کے ذریعہ سے تنخواہوں کی ادائیگی کی بجائے نقد ادا کرکے اپنی کرپشن بچانے میں مصروف ہیں ، عید کے موقع پر بھی کسی قسم کا بونس نہیں جاتاجس کی وجہ سے یہ غریب ملازمین عید کی خوشیاںمیں شامل ہونے سے بھی محروم ہوجاتے ہیں ۔

تفصیلات کے مطابق نجی تعلیمی ادارے جن میں وفاقی اور صوبائی دونوں قسم کے شامل ہیں وہ جہاں گورنمنٹ کے قواعد وضوابط کی سرعام دھجیاں بکھیرتے نظر آتے ہیں وہیں پر وہ بھاری بھرکم فیسیں وصول کرنے کے باوجود اپنے ملازمین کا معاشی استحصال بھی کررہے ہیں ۔

(جاری ہے)

قانون کے مطابق تمام صوبائی ووفاقی تعلیمی اداروں کو پابند بنایا گیاہے کہ وہ گورنمنٹ کے مقرر کردہ سکیل کے مطابق اپنے اپنے ملازمین کوتنخواہیں ادا کریں اور تنخواہ بذریعہ بینک اکاؤنٹ ادا کی جائے تاکہ ان کی ادائیگی کا ریکارڈ بھی رہ سکے مگر اس کے باوجود یہ ادارے بے دھڑک ہوکر نہ صرف اس قانون وضابطے کو ہوا میں اُڑا رہے ہیں بلکہ ملازمین کو اپنے مقررہ کردہ خود ساختہ قواعدوضوابط کے مطابق اِنتہائی معمولی رقم ادا کرکے اُن کی معاشی مجبوریوں سے فائدہ اُٹھا رہے ہیں اور کوئی اِن سے پوچھنے والا نہیں کہ وہ کون سے قانون اور قواعدوضوابط کے مطابق غریب ملازمین کا معاشی استحصال کرکے اپنی دونوں جیبیں بھر رہے ہیں ۔

اکثر نجی تعلیمی اداروں کے ملازمین گرمیوں کی چھٹیوں کی تنخواہیں بھی ادا نہیں کرتے اور نہ ہی عیدین پر گورنمنٹ کے قواعدوضوابط کے مطابق کسی قسم کا بونس دیتے ہیں جس کی وجہ سے اِن اداروں میں کام کرنے والے اکثرملازمین عید کی خوشیوں میں احسن طریقہ سے شامل ہونے سے محروم رہ جاتے ہیں ۔ معاشی استحصال کا یہ عالم ہے کہ اِن ملازمین کی سالانہ اینکریمنٹ میں بھی کوئی خاطرخواہ اضافہ نہیں کیا جاتابلکہ سال کے اختتام پر یہ کہہ کر فارغ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ہمارے معاشی حالات درست نہیں جو رہنا چاہتا ہے وہ رہے ورنہ ملازمت چھوڑ جائے جو کہ ایک بہت بڑی بلیک میلنگ کے زمرے میں بھی آتاہے کیونکہ مجبور ولاچار شخص کو بحرحال اپنے گھر کا چولہاچلانے کے لئے چپ سادھنا پڑجاتی ہے ۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان نے جہاں بہت سے سوموٹوایکشن لئے ہیں وہاں فوری طور پر ایک یہ بھی ایکشن لے لیں تاکہ عیدالفطر کے موقع پر یہ لوگ بھی خوشیوں میں شامل ہوسکیں -