شامی صدرتمام حکومت نواز ملیشیائوں کو کالعدم قرار دے دیا،صدارتی فرنان جاری

نئے حکومتی فرمان کے تحت ایران کی پروردہ ملیشیائوں کو بھی شام سے نکلنا ہوگا،شامی آبزرویٹری کاردعمل

اتوار جون 13:30

دمشق(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 جون2018ء) شامی صدر بشارالاسد اپنے اتحادی روسی صدر ولادی میر پوتین کے مطالبے پر تمام حکومت نواز ملیشیائوں کو کالعدم قرار دے دیں گے۔اس ضمن میں ایک صدارتی فرمان کے اجرا کے لیے تیاریاں کی جارہی ہیں ۔عرب ٹی وی کے مطابق روسی صدر نے سوچی میں بشارالاسد سے اپنی حالیہ ملاقات کے موقع پر حکومت نواز تمام ملیشیائوں کو کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

ادھربرطانیہ میں قائم شامی رصد گاہ برائے انسانی حقوق نے اس پیش رفت کو غیر متوقع قرار دیا اور کہا کہ نئے صدارتی حکم کا اطلاق شام کے تمام علاقوں پر ہوگا۔ذرائع کے مطابق نئے حکومتی فرمان کے تحت ایران کی پروردہ ملیشیائوں کو بھی شام سے نکلنا ہوگا۔اس سے ان ملیشیاں میں غیظ وغضب پایا جارہا ہے۔

(جاری ہے)

ان ذرائع کا کہنا ہے کہ اسد رجیم دو آپشن پیش کرے گا : جو ملیشیائیں اس کی وفادار ہیں ،انھیں تمام علاقوں سے واپس بلا لیا جائے گا یا پھر انھیں سرکاری طور پر فوج میں ضم کردیا جائے گا۔

روس نے شامی صدر کے اقتدار کے دفاع کے لیے لڑنے والی ملیشیاں کے جنگجوں کی حالیہ مہینوں کے دوران میں لوٹ مار کے بعد انھیں کالعدم قرار دینے کی درخواست کی ہے۔ان ملیشیاں نے شامی فوج کے مفتوحہ علاقوں میں حالیہ مہینوں میں ہزاروں مکانوں سے تمام مال واسباب لوٹ لیا ہے اور ان کے جنگجو چیک پوائنٹس پر بھی عام شہریوں سے چھینا جھپٹی سے گریز نہیں کرتے رہے ہیں۔

متعلقہ عنوان :