پشاور میں لڑکی کی بے حرمتی کا ملزم قانون کے شکنجے میں نہ آ سکا

سی سی پی او پشاور نے ملزم کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دے دی

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان اتوار جون 13:32

پشاور میں لڑکی کی بے حرمتی کا ملزم قانون کے شکنجے میں نہ آ سکا
پشاور (اردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔03 جون 2018ء) پشاور کے علاقہ ہشت نگری میں 17 سالہ بچی کو برہنہ کر کے گلیوں میں گھُمایاگیا تھا، ننھی بچی نے نے روتے ہوئے شرم کے مارے اپنا جسم ڈھانپنے کی کوشش کی لیکن مظہر حسین نامی ملزم نے اپنی سفاکیت کی انتہا کرتے ہوئے بچی کو برہنہ حالت میں ہی گلیوں میں چلنے پر مجبور کیا۔لیکن پشاور میں لڑکی کی بے حرمتی کا ملزم تا حال قانون کے شکنجے میں نہ آ سکا۔

ملزم لڑکی کی عزت کو اچھالنے کے بعد گھر کو تالے لگا کر اہل خانہ سمیت فرار ہو گیا تھا۔سی پی او پشاور نے ملزم کی گرفتاری کے لیے خصوصی ٹیم بھی تشکیل دے دی ہے۔متاثرہ لڑکی کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی کے ساتھ بہت ظلم ہوا ہے اور یہ ہمارے ساتھ زیادتی ہے اس لیے ہمارا مطالبہ ہے کہ ملزم کو جلد از جلد گرفتار کر کے کڑی سے کڑی سزا دی جائے۔

(جاری ہے)

پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ملزم کو جلد ہی گرفتار کر لیں گے جس کے لیے ایک خصوصی ٹیم بھی تشکیل دے دی گئی ہے۔یار رہے کہ پشاور میں بچوں کے دریان ہونے والی لڑائی کی وجہ سے ایک معصوم بچی کی عزت کو اچھالا گیا۔بچوں کے مابین ہوئی لڑائی بڑوں تک پہنچی تو اس لڑائی نے ایک بھیانک صورتحال اختیار کر لی۔ معاملہ تب سب کے سامنے آیا جب ایک مظہر حسین نامی شخص نے سفاکیت اور درندگی کی تمام حدیں عبور کر لیں۔

مظہر حسین نے 17 سالہ بچی کے کپڑے پھاڑ دئے اور اسے برہنہ حالت میں ہی گلیوں میں گھُومنے پر مجبور کیا۔ ننھی بچی نے نے روتے ہوئے شرم کے مارے اپنا جسم ڈھانپنے کی کوشش کی لیکن مظہر حسین نے اپنی سفاکیت کی انتہا کرتے ہوئے بچی کو برہنہ حالت میں ہی گلیوں میں چلنے پر مجبور کیا۔ اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر اور مقامی افراد کی جانب سے مظہر حسین کو سخت برا بھلا کہا گیا۔

مقامی افراد کے احتجاج کے بعد مظہر حسین کے خلاف ایک ایف آئی آر بھی درج کروائی گئی ۔فاکیت سے بھرپور یہ واقعہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی گذشتہ برس نومبر میں ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک نوجوان لڑکی کو چار ملزمان نے برہنہ حالت میں گلیوں کے چکر لگوائے تھے۔ گرفتاری کے بعد ملزمان نے عدالت کے سامنے اپنے جُرم کا اعتراف کیا۔ اس واقعہ پر بھی سوشل میڈیا پر بھونچال آنے کے بعد ہی کارروائی کا آغاز کیا گیا تھا۔ویڈیو ملاحظہ کیجئے: