تمباکو نوشی سے ہر سال دنیابھر میں 70لاکھ افراد ہلاک ہورہے ہیں ،2030،تک یہ تعداد 80لاکھ سے تجاوز کرجائے گی،طبی ماہرین

اتوار جون 15:10

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 03 جون2018ء) تمباکو نوشی سے ہر سال دنیابھر میں 70لاکھ افراد ہلاک ہورہے ہیں اور2030تک یہ تعداد 80لاکھ سے تجاوز کرجائے گی۔ طبی ماہرین کے مطابق تمباکو کے استعمال سے جنس،عمر، سماجی حیثیت اورثقافتی پس منظر کی تخصیص کے بغیر سبھی لوگ متاثر ہوتے ہیں۔تمباکو نوشی سے جان لیوا بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتاہے جبکہ بیماری کی صورت میں خاندانوں پر اضافی مالی بوجھ بھی بڑھ جاتاہے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان میں تمباکونوشی مردوں میں پھیپھڑوں کے کینسر سے 90فیصد اورخواتین میں 80فیصد اموات کی ذمہ دار ہے۔ایک اندازے کے مطابق ملک میں ہر سال تمباکو نوشی سے ایک لاکھ افراد ہلاک ہوتے ہیں۔ تمباکو میں 4ہزار کے قریب کیمائی اجزاء ہیں جن میں 250انسانی صحت کیلئے مضرہیں جبکہ ان میں سے 70عناصر سے سرطان کی بیماری لاحق ہوسکتی ہے۔

(جاری ہے)

ماہرین کے مطابق تمباکونوشی سے جڑا ایک اور اہم مسئلہ سیکنڈ ہینڈ سموکنگ ہیں ، اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ایک کمرے میں ایک شخص تمباکونوشی کررہاہے تو اس سے اس کمرے میں موجود وہ لوگ بھی متاثر ہوسکتے ہیں جو تمباکو نوشی تو نہیں کررہے تاہم تمباکو سے آلودہ فضاء میں سانس لے رہے ہیں، ہر سال سیکنڈ ہینڈ سموکنگ سے دنیابھر میں 6 لاکھ افراد ہلاک ہورہے ہیں جن میں سے ایک تہائی تعداد بچوں کی ہے۔

متعلقہ عنوان :